سلسلہ احمدیہ — Page 439
439 نہیں کہ آپ کے بعد اب کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔اب پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی کے سپر دتو یہ کام ہوا تھا کہ یہ تعین کرے کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہیں سمجھتا اس کا اسلام میں کیا Status ہے۔اب اگر وہ یہ بحث شروع کرتے تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ یہ کاروائی اپنے موضوع پر آگئی ہے۔جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا تھا کہ پرانے بزرگوں اور بعد کے علماء نے اتنے تواتر سے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد امتی نبی کا مقام حاصل کرنا مقام خاتم النبین کے منافی نہیں ہے کہ ان حوالوں کو پڑھنے میں کئی دن درکار ہوں گے۔تو چاہئے تو یہ تھا کہ قومی اسمبلی بھی مشتاق ہوتی کہ ہاں ہمیں بھی وہ حوالے سنائیں ورنہ ہم ابھی تک تو یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو کسی قسم کی نبوت کے دروازے کو کھلا ہوا سمجھے وہ فوراً دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔سوالات اُٹھانے والے اپنی اس کمزوری کو جانتے تھے۔عقل کا تقاضا یہ تھا کہ اگر اس بنیاد پر کسی کو غیر مسلم کہا جاتا تو اس کا فر گری کے عمل کی زد میں سلف صالحین کی ایک بڑی تعداد آجاتی۔چنانچہ اس صورت حال میں ہم اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ آخر کیوں ایک بار پھر اٹارنی جنرل صاحب نے موضوع سے گریز کیا اور دوسرے موضوع پر سوالات شروع کر دئیے۔بہر حال اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی طرف سے ایک دلیل پیش فرمائی۔اس دلیل کی حالت ملاحظہ ہو۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تحریر کو پڑھا: ”۔۔اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسی اور حضرت عیسی اور حضرت محمد مصطفے ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔(۷۴) یہ حوالہ پڑھ کر یحییٰ بختیار صاحب نے حضور سے کہا: یہ آپ دیکھ لیجئے۔“ یہ پڑھتے ہوئے آدمی سوچتا ہے کہ آخر اس پر وہ کیا اعتراض کریں گے۔انہوں نے یہ حوالہ دکھاتے ہی کہا وو اب مرزا صاحب۔اس پر ذرا کچھ روشنی ڈالیں کہ جب مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی