سلسلہ احمدیہ — Page 437
437 جواب میں کچھ دقت نہ ہو سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولکن رسول الله و خاتم النبیین فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہئے اور اس مقام کو مقام مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تاخر زمانی صحیح ہوسکتی ہے مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارانہ ہوگی۔۔۔عرض پرداز ہوں کہ اطلاق خاتم اس بات کو متقضی ہے کہ تمام انبیاء کا سلسلہ نبوت آپ پرختم ہوتا ہے جیسا انبیاء گزشتہ کا وصف نبوت میں حسب تقریر مذکور اس لفظ میں آپکی طرف محتاج ہونا ثابت ہوتا ہے اور آپ کا اس وصف میں کسی کی طرف محتاج ہونا انبیاء گزشتہ ہوں یا کوئی اور۔اسی طرح اگر فرض کیجئے آپ کے زمانے میں بھی اس زمین میں یا کسی اور زمین میں یا آسمان میں کوئی اور نبی ہو تو وہ بھی اس وصف نبوت میں آپ ہی کا محتاج ہوگا اور اس کا سلسلہ نبوت بہر طور پر آپ پر مختم ہو گا۔۔۔۔۔۔۔بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔“ (تحذیرالناس، مصنفہ مولانا قاسم نانوتوی صاحب، قاری پریس دیو بندص ۳) اسی طرح نواب صدیق حسن خان صاحب نے تحریر کیا ہے کہ ” حديث لا وحی بعد موتی بے اصل ہے ہاں لا نبی بعدی آیا ہے۔اس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ نہ لائے گا۔“ اقتراب الساعة، مطبع مفید عام آگرہ،مصنفہ نواب صدیق حسن خان ص ۱۶۲) ان کتابوں میں بھی جو لکھی ہی جماعت کی مخالفت میں گئی تھیں اور جن میں جماعت احمدیہ کے خلاف جی بھر کر زہر اگلا گیا تھا، اس بات کا برملا اظہار کیا گیا تھا کہ امت مسلمہ کے سلف صالحین کی ایک بڑی تعداد یہ عقیدہ رکھتی رہی ہے کہ گو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد شرعی نبی نہیں آسکتا لیکن آنحضرت ﷺ کی اتباع میں ایک شخص کو نبوت کا مقام مل سکتا ہے چنانچہ ایک کتاب " مرزائیت نئے زاویوں سے میں مصنف لکھتا ہے : الله