سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 423 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 423

423 قرار دیا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کی آنکھیں کچھ کھلیں کہ وہ کیا غلطی کر بیٹھے ہیں حالانکہ ابھی تو اس بدزبانی کا ذکر شروع ہی نہیں ہوا تھا جو ان کے بزرگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کی تھی۔اب انہوں نے اس جواب کو روکنے یا کم از کم مختصر کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کئے اور کہا کہ میرا سوال تو سادہ تھا میں نے تو تین بزرگوں کا نام لے کر دریافت کیا تھا کہ ان کے متعلق مرزا صاحب نے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔آپ ان فتووں کا ذکر کر رہے ہیں کہ سینیوں نے شیعوں کو کیا کہا ہے اور شیعوں نے سنیوں کو کیا کہا ہے۔ان کا کیا جواز ہے۔حضور نے اس کے جواب میں ابھی یہی فرمایا تھا کہ ” آپ کا مطلب یہ ہے۔۔۔“ تو معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کو احساس ہوا کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔سوال تو وہ کر چکے تھے۔جواب کو روکنا انکے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔انہوں نے بات بدل کر کہا کہ ”ی مختصر ہو۔میں نہیں آپ کو روکتا۔نہ مجھے اختیار ہے نہ میں آپ کو روک سکتا ہوں۔صرف یہ ہے کہ Proceedings لمبی ہوگئی ہیں۔آپ پر بھی Strain ہے۔اسمبلی پر بھی Strain ہے۔اس لئے میں مودبانہ عرض کروں گا کہ اگر آپ اس کو اس چیز کے لیے Confine کریں۔اس کاBackground ہمیں مل گیا ہے۔آپ نے پوری تفصیل سے بتایا ہے۔۔۔" 66 بہر حال تیر تو اب کمان سے نکل چکا تھا۔حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے فرمایا ” اگر میں یہ سمجھوں کہ اس پس منظر کو سامنے لاتے ہوئے کہ میں اس مختصر سوال کا مختصر جواب نہیں دے سکتا تو پھر میرے لیے کیا ہدایت ہے آپ کی؟“ اب یہاں پر اٹارنی جنرل صاحب بے بس تھے۔انہوں نے بے چارگی سے کہا جیسے آپ کی مرضی، میں نے Request کی تھی۔اس پر حضور نے فرمایا کہ میں نے سینکڑوں میں سے صرف چند مثالیں لی ہیں اور دوسرا حوالہ پڑھنا شروع کیا۔اب تو مولوی حضرات کو بھی نظر آرہا تھا کہ ان کے اعتراض کی کیا گت بن رہی ہے۔چنانچہ قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب نے سپیکر صاحب سے اپیل کی کہ گواہ کو روکا جائے کہ وہ دوسروں کی گالیاں کیوں پیش کر رہے ہیں۔لیکن اس وقت سپیکر صاحب ان کی مدد کو نہیں آ رہے تھے چنانچہ سپیکر صاحب نے انکو تنبیہ کی "This is a question۔This can only come through the