سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 306 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 306

306 منسوب کرتا ہو۔حضور نے اس ضمن میں چین جیسے کمیونسٹ مذہب کی مثال دی۔اور اس ضمن میں ان کے قائد چیئر مین ماؤ کے کچھ اقتباسات پڑھ کر سنائے۔اور فرمایا کہ کسی حکومت کا یہ حق نہیں کہ وہ فیصلہ کرے کہ کسی شہری کا مذہب کیا ہے۔اور یو این او کے انسانی حقوق کے منشور کا حوالہ دیا جس پر پاکستان نے دستخط کیے ہوئے ہیں۔اور پھر اس مضمون پر پاکستان کے آئین کا تجزیہ کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا: آخر میں میں اپنے دستور کو لیتا ہوں ہمارا موجودہ دستور جو عوامی دستور ہے، جو پاکستان کا دستور ہے۔وہ دستور جس پر ہمارے وزیر اعظم صاحب کو بڑا فخر ہے، وہ دستور جو ان کے اعلان کے مطابق دنیا میں پاکستان کے بلند مقام کو قائم کرنے والا اور اس کی عزت اور احترام میں اضافہ کا موجب ہے، یہ دستور ہمیں کیا بتا تا ہے؟ اس دستور کی بیسویں دفعہ یہ ہے (a) Every Citizen shall have the right to profess, practice and propagate his religion and (b) every religious denomination and every sect thereof shall have the right to maintain and manage its religious institution۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کو ہمارا یہ دستور جو ہمارے لیے باعث فخر ہے یہ ضمانت دیتا ہے کہ جو اس کا مذہب ہو اور جس مذہب کا وہ خود اپنے لئے فیصلہ کرے وہ اس کا مذہب ہے۔( بھٹو صاحب یا مفتی محمود صاحب یا مودودی صاحب نہیں بلکہ ) جس مطلب کے متعلق وہ فیصلہ کرے وہی اس کا مذہب ہے اور وہ اس کا زبانی اعلان کرسکتا ہے۔یہ دستور ا سے حق دیتا ہے کہ وہ یہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں کہ نہیں اور اگر وہ یہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں تو یہ آئین جس پر پیپلز پارٹی کو بھی فخر ہے ( اور ہمیں بھی فخر ہے اس لئے یہ دفعہ اس میں آگئی ہے ) یہ دستور کہتا ہے کہ ہر شہری کا یہ حق ہے کہ وہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں یا مسلمانوں کے اندر میں وہابی ہوں یا اہلِ حدیث ہوں یا اہلِ