سلسلہ احمدیہ — Page 307
307 قرآن ہوں یا بریلوی ہوں ( وغیرہ وغیرہ تہتر فرقے ہیں ) یا احمدی ہوں تو یہ ہے مذہبی آزادی۔۔۔۔پس ہزار ادب کے ساتھ اور عاجزی کے ساتھ یہ عقل کی بات ہم حکومت کے کان تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ جس کا تمہیں انسانی فطرت نے اور سرشت نے حق نہیں دیا جس کا تمہیں حکومتوں کے عمل نے حق نہیں دیا، جس کا تمہیں یو این او کے Human Rights نے (جس پر تمہارے دستخط ہیں) حق نہیں دیا، چین جیسی عظیم سلطنت جو مسلمان نہ ہونے کے باوجود اعلان کرتی ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ کوئی شخص Profess کچھ کر رہا ہو اور اس کی طرف منسوب کچھ اور کر دیا جائے۔میں کہتا ہوں میں مسلمان ہوں، کون ہے دنیا میں جو یہ کہے گا کہ تم مسلمان نہیں ہو۔یہ کیسی نا معقول بات ہے۔یہ ایسی نا معقول بات ہے کہ جو لوگ دہر یہ تھے انہیں بھی سمجھ آگئی۔پس تم وہ بات کیوں کرتے ہو جس کا تمہیں تمہارے اس دستور نے حق نہیں دیا۔۔(۲۷) ایک طرف تو جماعت احمدیہ کے متعلق حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ارادے اچھے نہیں معلوم ہورہے تھے اور دوسری طرف ملک میں احمدیوں پر ہر قسم کا ظلم کیا جا رہا تھا تا کہ وہ اس دباؤ کے تحت اپنے عقائد ترک کر دیں۔لیکن جب ابتلاؤں کی شدت اپنی انتہا پر پہنچی ہو تو ایک عارف باللہ یہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ ان مشکلات کے ساتھ اللہ کی نصرت آرہی ہے۔چنانچہ ۲۸ جون کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا۔ہمارا زمانہ خوش رہنے مسکراتے رہنے اور خوشی سے اچھلنے کا زمانہ ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی ہے کہ اس زمانہ میں نبی اکرم ﷺ کا جھنڈا دنیا کے ہر ملک میں گاڑا جائے گا۔اور دنیا میں بسنے والے ہر انسان کے دل کی دھڑکنوں میں محمد علیہ کی محبت اور پیار دھڑ کنے لگے گا۔اس لئے مسکراؤ!۔مجھے یہ خیال اس لئے آیا کہ بعض چہروں پر میں نے مسکراہٹ نہیں دیکھی۔ہمارے تو ہننے کے دن ہیں۔نبی اکرم ﷺ کی فتح اور غلبہ کی جسے بشارت ملی ہو وہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو دیکھ کر دل گرفتہ نہیں ہوا کرتا اور جو دروازے ہمارے لیے کھولے گئے ہیں وہ