سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 96 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 96

96 کی تعلیم پر عمل پیرا ہو کر حقیقی معنوں میں کامیاب زندگی بسر کریں۔آپ نے واضح فرمایا کہ اسلام کی تعلیم پر کما حقہ عمل کرنے سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ انہیں قبولیت دعا کا شیریں پھل ملے گا اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ان کا ایک زندہ تعلق قائم ہو جائے گا۔اس کے بعد حضور نے دو گھنٹے مختلف احباب سے ملاقات فرمائی۔اسی روز حضور نے سائنس اور ٹیکنا لوجی کی کماسی یو نیورسٹی تشریف لے جا کر طالب علموں ، دانشوروں اور اہل علم حضرات سے خطاب فرمایا۔تقریباً ایک ہزار افراد اس موقع پر موجود تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ تدریسی کتابوں کے علم کا بہاؤ رک جاتا ہے،اس میں تعفن پیدا ہو جاتا ہے اور یہ انسانی استعمال کے قابل نہیں رہتا۔مگر جب کلاس روم میں حاصل کیا گیا علم ہمارے ذہنوں میں جڑ پکڑ لیتا ہے اور ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے تب یہ ایک خالص حقیقی اور فائدہ مند چیز میں تبدیل ہوتا ہے۔سچا اور حقیقی علم تب پیدا ہوتا ہے جب ایک طرف ہم حقیقت کا حقیقی علم حاصل کرتے ہیں اور دوسری طرف اس کے خالق سے قرب کا تعلق پیدا کرتا ہے۔اس طرح ہم علم کے ماخذ تک پہنچتے ہیں اور اس سے قریبی تعلق پیدا کرتے ہیں۔تب ہی ہم ایک حقیقی سائنسدان اور عالم کہلا سکتے ہیں۔حضور نے انسانی تدبیر پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں انسانی کوشش کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ہمارے پاس تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے سچی اور مسلسل کوشش کرنا ہمارا فرض ہے۔اپنی کوششوں کو اپنی دعاؤں کے ساتھ ملائیں اور اور پھر اپنے ارد گرد کی دنیا کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے ارد گرد موجود اشیاء کو پیدا کیا اور پھر انسان کے فائدہ کے لئے ان میں بے شمار خواص رکھے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان غور وفکر کر کے علم اور کوشش کے ذریعہ ان خواص کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرے۔جہالت اس استعمال کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے اور اگر عقل سے کام نہ لیا جائے تو یہ رجحان علم کو ختم کر دیتا ہے اور جمود کو جنم دیتا ہے۔ہمیں بہر حال تمام عمر کے لئے طالب علم اور محقق بن کر رہنا ہوگا۔حضور نے دوبارہ دعا اور تدبیر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ صحیح سمت میں محنت کرنا دعا کا ایک اہم جزو ہے اور اسی طرح خدا کے رحم اور عنایت کو جذب کرنے والی دعا محنت کا ایک جزو ہے۔اس طرح دونوں ایک ساتھ چلتے ہیں۔یہ دونوں ایک ہی تصویر کے دورخ ہیں اور دونوں پر زور دینا ضروری ہے۔بدقسمتی سے دنیا اس صداقت کو