سلسلہ احمدیہ — Page 97
97 فراموش کر چکی ہے۔اور اس وجہ سے یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ دنیا تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔یہ رجحان که انسانی کوشش کو دعا سے علیحدہ کر دیا جائے یا دعا کو انسانی کوششوں سے الگ کر دیا جائے اب ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ بڑا خطرہ بن چکا ہے۔معرفت الہی سے عاری علم ایک بے مقصد چیز اور بنی نوع انسان کے لئے خطرہ ہے (۲۵)۔حضور کے خطاب کے بعد سوالات کا سلسلہ شروع ہوا۔حاضرین کی طرف سے جن میں طلباء کی ایک بڑی تعداد شامل تھی بہت سے سوالات کئے گئے۔ایک سوال یہ بھی کیا گیا کہ شیطان کو کیوں پیدا کیا گیا ہے۔اس کے جواب میں حضور برجستہ ارشاد فرمایا تا کہ آپ کی ایمانی قوت کو آزمایا جا سکے (۲۶)۔ایک صاحب نے دریافت فرمایا کہ آپ اپنے متعلق کچھ بتا ئیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ I am the humblest of the - humble حضور کا یہ لیکچر خاص طور پر طلباء کو ایک عزم اور حوصلہ کے ساتھ علم کے سفر میں آگے بڑھنے کا پیغام دیتا تھا۔اور غانا کے پریس نے خاص طور پر لیکچر کے اس پیغام کو سرخیوں کے ساتھ شائع کیا۔غانین ٹائمنر نے ۲۳ را پریل ۱۹۷۰ء کو یہ خبر اس سرخی کے ساتھ شائع کی : Prepare for the future students told ڈیلی گرافک (Daily Graphic) نے ۲۳ اپریل کو اس لیکچر کی خبر اس سرخی کے ساتھ شائع کی : Prepare For The Task Ahead-Khalifatul Masih III کماسی کی لجنہ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی حرم حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کے اعزاز میں وسیع پیمانے پر ایک استقبالیہ کا اہتمام کیا۔اس میں تقریباً تین ہزار کے قریب خواتین نے شرکت کی۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ نے تمام بہنوں سے مصافحہ فرمایا اور ان سے ملنے پر بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔(۲۷) اگلے روز ۲۲ اپریل ۱۹۷۰ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث کماسی سے مہمان کے لئے روانہ ہو گئے۔ٹیچیمان کماسی سے شمال کی طرف ۷۴ میل کے فاصلے پر واقعہ ہے۔اور اس وقت مکرم عبدالوہاب بن آدم صاحب وہاں پر جماعت کے مبلغ کے طور پر کام کر رہے تھے اور ٹیچیمان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک مضبوط اور فعال جماعت قائم تھی۔پہلے وقت کی کمی کے باعث ٹیچیمان جانے کا پروگرام