سلسلہ احمدیہ — Page 68
68 880 انعقاد جلسه خلافت جویلی جوں جوں جلسے کے دن قریب آرہے تھے قادیان میں اس تاریخی موقع کی تیاریاں ایک خاص جوش سے مکمل کی جا رہی تھیں۔۲۲ دسمبر کی صبح کو حضرت خلیفۃ امسیح الثانی نے مختلف انتظامات کا معائنہ فرمایا۔جلسہ گاہ کے سٹیج کو دیکھ کر حضور نے اظہار مسرت کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا کے فضل سے اب تو ہمارا سٹیج ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت کی جلسہ گاہ کے برابر ہے۔ابھی جلسے کے آغاز میں کچھ روز باقی تھے مگر ہزاروں کی تعداد میں مہمان قادیان پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔اس روز جب مسجد نور میں نماز جمعہ ادا کی گئی تو ساتھ کے میدان میں نمازی دور تک پھیلے ہوئے نظر آرہے تھے۔(۷) ۲۵ دسمبر کو مجلس خدام الاحمدیہ کا سالانہ اجتماع جو اسوقت خدام الاحمدیہ کا سالانہ جلسہ کہلاتا تھا منعقد ہوا۔حضور نے خدام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آئیندہ سے خدام کو اپنے جلسے کے لیے کوئی اور تاریخیں مقرر کرنی ہوں گی کیونکہ جلسے کے ساتھ اس کے انعقاد سے انتظامی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔(۸) آخر تمام تیاریوں ، دعاؤں اور انتظار کے بعد ۲۶ دسمبر کی صبح کو وہ گھڑیاں آن پہنچیں جب اس تاریخی جلسے کا آغاز ہونا تھا۔جوبلی تقریبات کی اہمیت کی وجہ سے جلسہ تین کی بجائے چار روز کا رکھا گیا تھا۔مختلف جگہوں سے مہمان قادیان پہنچ چکے تھے اور ہر طرف رونق اور چہل پہل نظر آ رہی تھی۔(۹) شرکاء میں بہت سے ایسے لوگ بھی موجود تھے، جنہوں نے اسی قادیان میں وہ دن بھی دیکھا تھا جب حضرت خلیفہ ایسی اول کا انتقال ہوا تھا اور جماعت پر ابتلاؤں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ایک طرف تو اپنے پیارے امام کی وفات کا صدمہ تھا اور دوسری طرف یہ دیکھ کر کہ ایک گروہ خلافت کو مٹانے کے درپے تھا ، لوگوں کے دل بیٹھے جارہے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی یہ تحریر اس وقت کے خطرناک حالات اور لوگوں کی کیفیت کا نقشہ کھینچتی ہے۔”وہ رونا چاہتے تھے مگر افکار کے ہجوم سے رونا نہیں آتا تھا اور دیوانوں کی طرح ادھرا دھر نظر اٹھائے پھرتے تھے تا کہ کسی کے منہ سے تسلی کا لفظ سن کر اپنے ڈوبتے ہوئے دل کو سہارا دیں۔غم یہ نہیں تھا کہ منکرین خلافت تعداد میں زیادہ ہیں یا یہ کہ ان کے پاس