سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 67 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 67

67 حضرت مصلح موعودؓ نے مجلس مشاورت کی یہ سفارش منظور فرمائی کہ جماعت احمدیہ کا ایک جھنڈا تجویز ہونا چاہئیے تو سب سے پہلے تو اس جھنڈے کے ڈیزائن کی تیاری کا مرحلہ تھا۔اس کام کے لیے ایک کمیٹی مقرر ہوئی جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب شامل تھے۔اس کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کیں اور پھر حضور کی راہنمائی میں مختلف نمونے کاغذ پر تیار کیے گئے۔حضور نے ان کو ملاحظہ فرمایا اور پھر لوائے احمدیت کی ایک معین شکل کی منظوری عطا فرمائی۔احادیث میں رسول کریم ماہ کے مختلف جھنڈوں کے رنگ سیاہ اور سفید بیان ہوئے ہیں (۴)۔اس لئے لوائے احمدیت کا رنگ بھی سیاہ اور سفید رکھا گیا۔اس میں سیاہ رنگ کے پس منظر میں سفید رنگ میں مینارہ اسیح بنا ہوا جس کی ایک جانب ہلال اور ستارہ کے اور دوسری جانب مکمل چاند کے نقوش ہیں۔لوائے احمدیت کی تیاری ایک خاص جذباتی اور تاریخی اہمیت رکھتی تھی۔اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس کی تیاری کے لیے صرف صحابہ حضرت مسیح موعود سے چندہ لیا جائے خواہ وہ ایک پیسہ یا ایک دھیلہ دے سکیں اور اس کی تیاری کے مراحل بھی صحابہ اور صحابیات کے ہاتھوں سے طے ہوں۔اس کو تیار کرنے کے لیے جو روئی استعمال کی گئی اس کا بیج ونجواں کے ایک صحابی حضرت میاں فقیر محمد صاحب نے اپنے ہاتھ سے بویا اور خود سے پانی دیتے رہے اور خود ہی اسے چنا۔پھر صحابہ سے اسے دھنوایا گیا۔وہ روئی قادیان لائی گئی اور حضرت سیدہ ام المومنین حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ حضرت بیگم صاحبہ حضرت خلیفہ اسیح الاول ، حضرت مصلح موعودؓ کی بیگمات اور صحابیات نے اس روئی سے سوت کا تا (۱۹)۔اس کے بعد اس سوت سے بعض صحابہ نے جو یہ کام جانتے تھے قادیان اور تلونڈی میں کپڑا بنا۔اور کچھ درزی صحابہ نے اس کپڑے میں جوڑ ڈال کر مطلوبہ سائز تیار کیا۔پھر شاہدرہ لاہور سے اس کپڑے کے اوپر جھنڈے کی شکل نقش کروائی گئی۔دنیا میں عام طور پر جھنڈوں کا کپڑا پتلا اور ہلکا ہوتا ہے مگر لوائے احمدیت موٹے اور بھاری کپڑے سے بنایا گیا تھا۔(۵) ان سب مراحل سے گذر کر لوائے احمدیت کی تیاری جوبلی جلسہ سے چند روز پہلے مکمل ہوئی (1)