سلسلہ احمدیہ — Page 69
69 69 حق ہے کیونکہ نہ تو وہ تعداد میں زیادہ تھے اور نہ ان کے پاس حق تھا۔بلکہ غم یہ تھا کہ باوجود تعداد میں قلیل ہونے کے اور با وجود حق سے دور ہونے کے ان کی سازشوں کا جال نہایت وسیع طور پر پھیلا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔اور دوسری طرف جماعت کا یہ حال تھا کہ ایک بیوہ کی طرح بغیر کسی خبر گیر کے پڑی تھی۔گویا ایک ریوڑ تھا جس پر کوئی گلہ بان نہیں تھا اور چاروں طرف بھیڑئیے تاک لگائے بیٹھے تھے۔(۱۰) اور آج قادیان میں جمع ہونے والی سعید روحوں کو سب سے زیادہ اس بات کی خوشی نہیں تھی کہ ان کی تعداد پہلے سے بہت بڑھ چکی ہے یا پچیس سال پہلے کی نسبت ان کی مالی حالت میں نمایاں بہتری آچکی ہے بلکہ ان کو سب سے زیادہ اس امر کی خوشی تھی کہ انہوں نے اپنے رب کے وعدوں کو خود پورا ہوتا دیکھا تھا کہ خلافت کی برکت سے ان کے دین کو تمنت عطا ہو گی اور ان کے خوف کی حالت امن میں بدل دی جائے گی۔اور آج اس جو بلی کے موقع پر وہ اپنے امام کے منتظر تھے۔ابج کر ۴۵ منٹ پر جب حضور تشریف لائے تو اللہ اکبر اور حضرت امیرالمؤمنین زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔حضور نے تقریر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا۔د میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کر رہا تھا اور ابھی پہلی ہی آیت میں نے پڑھی تھی کہ میری نگاہ سامنے تعلیم الاسلام ہائی سکول پر پڑی۔اور مجھے وہ نظارہ یاد آ گیا۔جو آج سے پچپیس سال پہلے اس وقت رونما ہوا تھا، جب جماعت میں اختلاف پیدا ہوا تھا۔اور عمائد کہلانے والے احمدی جن کے ہاتھوں میں سلسلہ کا نظم ونسق تھا ، انہوں نے اپنے تعلقات ہم سے قطع کر لئے۔اور گویا اس طرح خفگی کا اظہار کیا، کہ اگر تم ہمارے منشاء کے ماتحت نہیں چلتے تو لو کام کو خود سنبھال لو۔ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے جو اب فوت ہو چکے ہیں ، اس مدرسہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم جاتے ہیں اور تم دیکھ لو گے، کہ اس جگہ پر دس سال کے اندراندراحمدیت نابود ہو کر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔اس کے وہ دس سال گزرے۔پھر ان کے اوپر دس سال اور گزر گئے۔اور پھر ان پر چھ سال اور گزر گئے لیکن اگر اس وقت چند سو آدمی احمدیت کا