سلسلہ احمدیہ — Page 677
677 سارے عہدیداروں کو موقوف کر دیں۔البتہ ہم آپ کو عبادت سے نہیں روک سکتے۔ایک طرف قابض افواج یہ گل کھلا رہی تھیں اور دوسری طرف جماعت کے مخالف مولوی اپنی ریشہ دوانیوں میں مشغول تھے۔بعض مولویوں نے جاپانی حکام تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ حوالے پہنچائے جس میں انگریزوں کی حکومت کی تعریف کی ہوئی تھی۔اور یہ ثابت کرنی کی کوشش کی کہ یہ لوگ انگریزوں کے جاسوس ہیں۔اس پر جاپانی حکام نے جماعت کے لوگوں سے مزید سوالات کئے اور بلا کر کہا کہ آپ کو جماعتی عہدیداران کے انتخاب کی اجازت نہیں اور نہ تبلیغ کی اجازت ہے۔تمہارے نبی نے فرمایا ہے حب الوطن من الایمان۔احمدیوں نے جواب دیا کہ ہم ملک کی خدمت میں بھی حصہ لے رہے ہیں مگر مذہب کو نہیں چھوڑ سکتے۔کیونکہ اگر ہم مذہب کو چھوڑ دیں تو ہم ملک کی خدمت بھی نہیں کر سکتے کیونکہ مذکورہ بالا ارشاد کی وجہ سے ہی تو ہم ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔اس پر جاپانی افسر کہنے لگا کہ تم بحث کرتے ہو۔دوسرے غیر احمدی علماء یہ فتویٰ بھی دے رہے تھے کہ جس جنگ کا جاپان نے بیڑا اٹھایا ہے وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ان حالات میں جماعت کے مبلغ مکرم مولانا صادق صاحب سماٹری نے حکومت جاپان کو ایک خط لکھا۔اس خط میں راعی اور رعایا کے حقوق پر روشنی دالی اور احمدیت کی غرض و غایت پر بحث کی۔اور یہ درخوست کی کہ مذہب میں حکومت کی مداخلت نہیں ہونی چاہئیے۔اور یہ بھی لکھا کہ حکومت کی حقیقی خیر خواہ جماعتِ احمد یہ ہے۔ایک اور خاص امر جس کی طرف حکام کی توجہ مبذول کرائی گئی وہ یہ تھا کہ جنوب مشرقی ایشیا میں جس جنگ کا جاپان نے بیڑا اٹھایا ہے وہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں ہے۔اور جو علماء اسے چاپلوسی سے جہاد فی سبیل اللہ قرار دے رہے ہیں انہیں ایسا کرنے سے منع کر دینا چاہئیے۔جماعت کا ایک وفد یہ خط حکام تک پہنچانے گیا۔اس پر حکومت بہت برافروختہ ہوئی اور ایک مرحلہ پر فیصلہ کیا کہ مولا نا محمد صادق سماٹری صاحب کو سزائے موت دے دی جائے گی۔اس وقت یہ معلوم ہورہا تھا کہ اتحادی افواج انڈونیشیا میں داخل ہوں گی۔چنانچہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ جس قت یہ افواج انڈونیشیا میں قدم رکھیں گی اس وقت مولا نا محمد صادق سماٹری صاحب کو موت کی گھاٹ اتار دیا جائے گا۔اس صورتِ حال میں احباب جماعت نے تہجد ادا کرنی شروع کی اور روزے رکھے۔مولا نا صاحب کو رویا میں دکھایا گیا کہ دانیال کتاب کی فصل پانچ پڑھو۔جب بائیبل میں یہ حوالہ پڑھا تو اس میں ایک