سلسلہ احمدیہ — Page 676
676 کام کی طرف بھی توجہ کی اور ۱۹۳۸ء میں حضرت مولوی رحمت علی صاحب نے عیسائیت کے متعلق پانچ کتب لکھیں اور یہ کتب شائع کی گئیں۔اور ۱۹۳۹ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ایک غلطی کا ازالہ اور حضرت مصلح موعود کی تصنیف دعوت الا میر کا ترجمہ شائع ہوا۔۱۹۴۱ء میں تاسک ملایا کے علاقے میں جماعت نے اپنی مسجد تعمیر کرنی شروع کی جو اگلے سال مکمل ہو گئی۔اسی طرح اس سال میں موتو بوئی بسار اور چیکا لونگ کولون کے علاقہ میں جماعت کا قیام عمل میں آیا۔دوسری جنگِ عظیم جاری تھی۔۱۹۴۲ء میں انڈونیشیا پر جاپان کا قبضہ ہو گیا۔پہلے پہل تو لوگوں نے یہ انتظار کیا کہ اب قابض افواج ایشیا کو آزادی دلانے کے نعرے پر عمل کریں گی مگر آہستہ آہستہ صورت حال واضح ہوتی گئی۔جاپانی حکومت نے انڈونیشیا کے لوگوں پر اتنی سختی شروع کی کہ لوگ چلا اٹھے۔اُن پر فوجی مقدمات قائم ہوتے تو کوئی تحقیقات نہ کی جاتیں۔عورتوں کی عصمت دری کی جاتی۔بہت سی عورتوں کو زبردستی جاپانی فوجیوں کے لئے قائم کردہ Comfort Houses میں بھجوا دیا گیا۔ان کے فوجی مساجد میں رہنے لگے۔فوجی جا کر کسانوں کے کھیت کاٹ کر لیجاتے اور اُن کو کوئی پوچھنے والا نہ ہوتا۔کوئی آواز اُٹھاتا تو اسے مار دیا جاتا۔یہ تو افراد کے ساتھ سلوک تھا۔اس کے علاوہ جلد ہی تمام سیاسی تنظیموں اور انجمنوں پر پابندی لگا دی گئی۔احمدیوں نے کوشش کی کہ ہم مذہبی جماعت ہیں مگر جاپانی نمائیندوں نے ان کی ایک نہ سنی۔جو افسر مذہبی جماعتوں کے متعلق تحقیق کر رہا تھا ، اس نے مولانا صادق صاحب سماٹری کو کہا کہ بانی سلسلہ احمدیہ کے کلام سے حکومت کے متعلق نظریہ پیش کرو۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ تحریر دکھائی جس میں لکھا تھا کہ ہر احمدی کو حکومت وقت کی اطاعت کرنی چاہئیے۔وہ یہ تحریر پڑھ کر کہنے لگا کہ اس میں یہ تو نہیں لکھا کہ جاپان کی اطاعت کرو اگر کل کو یہاں پر کسی اور ملک کی حکومت ہو تو آپ اُس کی بھی اطاعت کریں گے۔اب اس الٹے اعتراض کا کیا جواب ہوسکتا تھا۔پھر وہ مصر ہوئے کہ کیا آپ عہد کرتے ہیں کہ جاپان کے ساتھ جئیں گے اور اس کے ساتھ مریں گے۔انہیں کہا گیا کہ ہمارا جینا مرنا خدا کے لئے ہے ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے۔یہ بات چیت ختم ہوئی تو اُس نے کہا کہ آپ کو تبلیغ کی اجازت نہیں کیونکہ آپ کی تبلیغ سے لوگوں میں جوش پیدا ہوتا ہے ، آپ اپنے