سلسلہ احمدیہ — Page 678
678 بادشاہ کی بادشاہت کا خاتمہ قریب آنے کی پیشگوئی درج تھی۔چند ماہ کے اندر اندر جاپان کو دو ایٹم بموں کی تباہ کاری کا نشانہ بنا پڑا اور مجبوراً اس نے ہتھیار ڈال دیئے۔جاپان نے تو ۱۴ اگست کو ہی ہار مان لی تھی مگر سماٹرا اور جاوا میں یہ اعلان ۲۲ اگست کو کیا گیا۔بعد میں غیر احمد یوں سے معلوم ہوا کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ مولوی صاحب کو ۲۳ یا ۲۴ اگست کو سزائے موت دے دی جائے۔(۳) ۱۹۴۴ء میں جاپانی تسلط کے خلاف جاوا میں بغاوت ہوگئی۔جماعت کے مخالف علماء فوراً جاپانی حکام کے پاس گئے اور کہا کہ اس بغاوت کے پیچھے احمدیوں کا ہاتھ ہے۔جماعت کے چودہ افراد کو جن میں تین مبلغین بھی شامل تھے گرفتار کر لیا گیا۔یہ احباب ۸۴ دن تک قید میں رہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے اسیران کو رڈیا کے ذریعہ رہائی کی بشارت دی اور خدا کے فضل سے ان کی رہائی عمل میں آگئی۔(۴) جاپانی گئے اور ڈچ حکومت ایک مرتبہ پھر انڈونیشیا پر قابض ہوگئی۔انڈو نیشیا کو آزادی کی منزل ابھی بھی نہیں ملی تھی۔سوئیکارنو کی قیادت میں انڈونیشیا میں آزادی کی تحریک شروع ہو گئی۔ملک کے احمدی اس تحریک میں حصہ لے رہے تھے۔تحریک آزادی میں بعض احمدیوں نے اپنی جانوں کی قربانی پیش کی۔جماعت انڈونیشیا کے پریذیڈنٹ مکرم محی الدین صاحب جو تحریک آزادی کے نمایاں کارکن تھے ان کو پہلے ڈچ فوجیوں نے اغوا کیا اور پھر آپ کو شہید کر دیا گیا۔(۵) ۱۹۴۹ء میں ایک گروہ دارالاسلام نے جماعت احمدیہ کو اپنے ساتھ مل کر سیاسی مساعی میں شامل ہونے کی دعوت دی مگر جب احمدیوں نے اس سے انکار کیا تو انہوں نے احمدیوں کی شدید مخالفت شروع کر دی۔اور اس مخالفانہ رو میں دو خواتین سمیت سولہ احمدیوں کو شہید کر دیا گیا۔ان شہداء کا تعلق مغربی جاوا سے تھا۔(4) جب ۱۹۴۶ء میں انڈونیشیا میں تحریک آزادی چل رہی تھی تو حضور نے ایک خطبہ میں فرمایا دلیکن انڈونیشیا کے جزائر نے اس اعلیٰ خوبی کا مظاہرہ کیا ہے۔جس سے دوسری اسلامی دنیا قاصر رہی ہے۔ان کی ابھی تک آواز ایک ہے ان کی بولی ایک ہے۔انکی حکومت ایک ہے۔ڈچوں نے گذشتہ چند ماہ میں بہت کوشش کی ہے کہ ان میں افتراق