سلسلہ احمدیہ — Page 599
599 آنے والے خطرے کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔میں نے اس کے جواب میں عرض کیا اللہ تعالی کا فضل چاہئیے۔پھر تھوڑی دیر تامل کرنے کے بعد میں نے کہا' یہ سب کچھ آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہو رہا ہے۔بس اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔(۴) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایک عرصہ سے بیمار رہ رہے تھے۔دس سال قبل آپ پر دل کا حملہ بھی ہوا تھا اور ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ آپ کے دل پر بیماری کا کافی اثر ہے۔اس کے علاوہ ذیا بیطیس اور ہائی بلڈ پریشر کے عوارض بھی شروع ہو چکے تھے۔بسا اوقات آپ کو بے خوابی کی شکایت ہو جاتی جس سے تکلیف میں اضافہ ہو جاتا۔جون ۱۹۶۳ء میں آپ کی طبیعت مزید خراب ہو گئی۔اُن دنوں میں گرمی زوروں پر تھی اس لئے ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ آپ کسی سرد مقام پر جا کر آرام فرما ئیں۔آپ سفر سے گبھراتے تھے اور زیادہ تر مرکز میں رہنا پسند فرماتے تھے، اس لئے پہلے تو آپ اس کے لئے رضامند نہیں ہوئے۔مگر پھر کچھ احباب نے زور دے کر آپ کو آمادہ کر لیا۔اس مقصد کے لئے مری کے قریب گھوڑا گلی کا انتخاب کیا گیا۔پروگرام تو یہ تھا کہ آپ سات آٹھ ہفتے وہاں قیام کریں گے لیکن آپ کو وہاں پر گبھراہٹ شروع ہوگئی اور اٹھارا نیس دن وہاں رہنے کے بعد آپ لا ہور تشریف لے آئے۔وہاں پر آپ کا قیام ریس کورس روڈ پر اپنی کوٹھی میں تھا۔لاہور میں ڈاکٹروں کا ایک بورڈ بنا، جنہوں نے مشورہ کر کے نئی ادویات شروع کیں۔آپ کو بہت زیادہ بے چینی تھی۔آپ ذکر فرماتے تھے کہ آپ کو بہت منذ ر خواب آئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اب آپ کا وقت قریب ہے۔دوست عرض کرتے کہ خواب تو تعبیر طلب ہوتے ہیں لیکن آپ کو اپنی وفات کا یقین ہو چکا تھا۔ڈاکٹر آپ کا معائنہ کر کے کہتے کہ نبض اور بلڈ پریشر ٹھیک ہیں تو آپ اپنے بڑے بیٹے محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب سے کہتے "مظفر آپ ڈاکٹروں کی باتوں پر نہ جائیں۔اب مجھ میں کچھ باقی نہیں رہا اور میں نے متواتر خوابیں دیکھی ہیں۔لاہور میں ایک آسٹریلین ڈاکٹر ملر نے بھی آپ کا معائنہ کیا اور رائے دی کہ کوئی وجہ نہیں کہ آپ صحت یاب نہ ہوں اور وثوق سے کہا کہ چند ہفتوں میں بہتری کا آغاز ہو جائے گا۔مگر دوسرے ہی دن آپ کو حرارت شروع ہوگئی۔دوسرے دن ٹسٹوں سے سینے میں نمونیہ کی تصدیق ہو گئی۔بخار میں تشویشناک اضافہ ہو گیا اور سانس میں رکاوٹ پیدا ہونے لگی اور بیہوشی شروع ہو گئی۔ڈاکٹر اپنی کوششیں کر رہے تھے مگر بیماری کی شدت