سلسلہ احمدیہ — Page 598
598 ہے کہ ۱۹۵۳ء والے حالات پیدا کر دئیے جائیں۔پس میں جماعت کے امیروں اور دیگر دوستوں کو ہوشیار کرنا چاہتا ہوں کہ وہ خُذُوا حِذْرَكُمْ کے ماتحت ہوشیار اور چوکس رہیں۔اور اس کے بعد آپ نے وہ احتیاطی تدابیر تحریر فرمائیں جو اس موقع پر اختیار کرنی ضروری تھیں۔ہر الہی جماعت میں خدا کے مامور کے تربیت یافتہ لوگ ایک ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔جب کبار صحابہ ایک ایک کر کے دنیا سے رخصت ہونے لگیں تو یہ موڑ ان جماعتوں کی تاریخ کا ایک نہایت نازک موڑ ہوتا ہے اور ان مقدس وجودوں کا رخصت ہونا ایک عظیم آزمائش کا درجہ رکھتا ہے۔اور اس وقت ان میں کمزوریوں کے راہ پانے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ہم اس وقت احمدیت کی تاریخ کے جس دور کا ذکر کر ہے ہیں وہ ایسا ہی دور تھا۔بہت سے کبار صحابہ ایک ایک کر کے اس عالم فانی سے رخصت ہو رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبشر اولاد میں سے حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی وفات پر ابھی ڈیڑھ سال بھی نہیں گذرا تھا۔اور حضرت مصلح موعود کی علالت کے باعث تمام احمدیوں کے دل غم زدہ تھے۔گوسب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مقدس وجود کی درازی عمر کے لئے دعا گو تھے مگر خدا تعالیٰ کی تقدیر یہ فیصلہ کر چکی تھی کہ اب چند ماہ کے بعد آپ اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں۔اس پس منظر میں آپ نے ایک رؤیا دیکھی اور اسے مجلس مشاورت کے پہلے اجلاس میں بیان بھی فرمایا۔اس رؤیا سے ظاہر ہوتا تھا کہ آزمائشوں کا ایک وقت قریب آرہا ہے۔آپ نے بیان فرمایا۔۔غالباً دو ہفتہ پہلے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خواب میں دیکھا اور نہایت نورانی اور پاکیزہ چمکتا ہوا چہرہ۔آپ ایک آرام کرسی پر یا تخت پوش پر ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اور پاؤں ذرا پھیلائے ہوئے تھے۔آپ کے سامنے ہماری ماموں زاد بہن سیدہ نصیرہ بیگم (جو میاں عزیز احمد صاحب کی بیوی اور ہمارے ماموں میر محمد اسحاق صاحب مرحوم کی بیٹی ہیں) بیٹھی ہوئی تھیں۔کچھ اور لوگ بھی تھے مگر میں ان کو پہچانتا نہیں۔صرف ان کو میں نے پہچانا۔جب میں اندر گیا تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں السلام علیکم عرض کیا۔بڑا صاف اور چمکتا ہوا چہرہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وعلیکم السلام کہا اور مجھے کہا کہ میاں اب کیا ہوگا ؟ ایسا جیسے فکر کا انداز ہوتا ہے۔گویا کسی