سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 600 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 600

600 میں اضافہ ہو رہا تھا اور سانس کی تکلیف اور غنودگی بڑھ رہی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ کو جب آپ کی علالت کی خبر ملی تو آپ کی طبیعت بے چین رہنے لگی اور آپ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی بیماری کے بارے میں بار بار دریافت فرماتے۔ربوہ اور دیگر جماعتوں میں اجتماعی دعائیں کی گئیں۔اور حضور کی طرف سے اور اہلِ ربوہ کی طرف سے صدقہ کے لئے بکروں کی قربانی کی گئی (۷)۔مگر خدا کی تقدیر مبرم کے ظاہر ہونے کا وقت آچکا تھا۔۲ ستمبر کو جب آپ کی کوٹھی میں مغرب کی نماز کھڑی ہو رہی تھی کہ آپ کا سانس رک گیا۔مصنوعی سانس دلانے کی کوششیں کی گئیں مگر بے سود، آپ کو مولا کا بلا وہ آچکا تھا۔آپ کی روح مالک حقیقی کے حضور حاضر ہوگئی۔(۵) آپ کا جسد خا کی اسی رات کو ربوہ لایا گیا۔ریڈیو پر آپ کی وفات کی خبر نشر ہوتے ہی احباب جماعت بڑی تعداد میں ربوہ پہنچنا شروع ہو گئے۔چہرہ کی زیارت کرنے والے بڑی تعداد میں اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔جنازے کا وقت آیا تو یہ سلسلہ مجبوراً بند کرنا پڑا۔ساڑھے پانچ بجے ، آپ کا جنازہ آپ کی کوٹھی ” البشری سے اُٹھایا گیا۔بہت سے لوگ باوجود شدید خواہش کے جنازے کو کندھا بھی نہیں دے سکے۔جنازے کو بہشتی مقبرہ کے وسیع احاطے میں لے جایا گیا حضور کے ارشاد کے ماتحت حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔پندرہ ہزار شرکاء پر رقت طاری تھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے نماز جنازہ میں چار کی بجائے پانچ تکبیریں کہیں۔بعض خاص جنازوں پر رسول کریم ﷺ نے چار سے زائد تکبیریں بھی کہی ہیں۔(۶۔۸) اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ عظیم مبشر فرزند، اپنی تمام عمر خدمتِ اسلام میں گزار کر، اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔(۱) روحانی خزائن جلد ۵ ص ۲۶۶-۲۶۷ (۲) مجموعہ اشتہارات حضرت مسیح موعود علیہ السلام، جلد اول، ص ۳۹۴-۳۹۵، الناشر الشرکة الاسلامیہ ۱۹۶۷ء (۳) الفضل ۲۶ مئی ۱۹۶۳ء ص ۴ (۴) رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۶۳، ص ۱۴ (۵) حیات قمر الانبیاء ، مصنفہ شیخ محمد اسمائیل پانی پتی، شائع کردہ محمد احمد اکیڈمی ۱۹۶۴ ص ۱۵۶ تا ۱۶۷ (۶) الفضل، ۵ ستمبر ۱۹۶۳ء ص ۸ ( ۷ ) الفضل ۳ ستمبر ۱۹۶۳ء ص ۸،۱ (۸) سنن ابو داؤد شریف باب ۵۹۹ التكبير على الجنازة