سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 588 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 588

588 اخبارات نے ان کی تعریفوں میں کالم لکھے بلکہ ابھی ان کے دورے کو شروع ہوئے دو ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ ان کے لیکچروں کو کتابی صورت میں شائع کرنے کا اہتمام بھی کر دیا گیا۔انگریز کی حکومت تھی۔پوری دنیا میں سفید فام اقوام کا راج تھا۔بڑے بڑے دیسی رؤسا اور ہندوستان کی ریاستوں کے راجے مہاراجے بیروز صاحب کے اعزاز میں دعوت دینا اپنے لئے فخر سمجھتے تھے۔اس دور میں جب کہ پوری دنیا پر پر عیسائی فرمانرواؤں کی حکومتیں قائم تھیں ، بیروز صاحب کے دلائل بھی ایک حاکمانہ کروفر لئے ہوئے تھے۔انہوں نے اپنے پہلے لیکچر میں کہا کہ اب اسلام تلوار کی بجائے پریس کا استعمال کر رہا ہے (۱) لیکن بنیادی طور پر اسلام ایک مشرقی مذہب ہے اور یہ مغربی فضا میں سانس نہیں لے سکتا۔نہ معلوم انہوں نے کس قرآنی آیت سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسلام تلوار کے زور سے دین کو پھیلانے کی تلقین کرتا ہے۔جب دلیل دینے کا موقع ہوتا تو وہ بجائے دلیل بیان کرنے کے اپنی طرح کی کسی مغربی شخصیت کا قول پڑھ دیتے۔گویا کہ جو کچھ مغربی مفکرین نے کہہ دیا وہ حرف آخر ہے۔اس سے کچھ عرصہ قبل مغربی طاقتوں نے آپس میں افریقہ کی بندر بانٹ کی تھی۔چنانچہ افریقہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا افریقہ کی تقسیم میں ایک کروڑ پندرہ لاکھ مربع میل میں سے صرف پندرہ لاکھ مربع میل باقی رہ گیا۔اور اس عظیم تقسیم کے نتیجے میں صرف تر کی ایک اسلامی حکومت ہے جس کا وجود اس تاریک بر اعظم پر باقی ہے۔محمڈن ازم جس طرح قسطنطنیہ اور افریقہ میں قائم ہے، وہ ہماری انسان دوست صدی سے مطابقت نہیں رکھتا۔اب جب کہ دنیا میں صرف ایک طاقتور مسلمان بادشاہ بیچ گیا ہے اور اسے صرف روس اور برطانیہ کی چپقلش کی وجہ سے یورپ میں رہنے کی اجازت ملی ہوئی ہے اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ محمد ن ازم تمام انسانیت کو فتح کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔(۲) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیروز صاحب اور ان جیسے پادریوں کے نزدیک کسی مذہب کے غالب آنے کے لئے سیاسی غلبہ اور دوسری اقوام پر اقتدار ہونا نہایت ضروری تھا۔یعنی ان جیسے مسیحی مبلغین کے نزدیک صرف وہی مذہب ایک عالمی مذہب بننے کے اہل ہے اور وہی مذہب انسانیت کے دلوں کو فتح کرے گا جس کی سب سے بڑی حکومتیں دنیا میں قائم ہوں ، خواہ یہ سلطنتیں کمزور اقوام کی آزدی