سلسلہ احمدیہ — Page 589
589 کو سلب کر کے کے بنائی گئی ہوں۔پہلے ہی لیکچر میں انہوں نے مسیحی مذہب کی برتری بیان کرنے کے لئے کسی انگریز سکالر کا یہ حوالہ پیش کیا۔عیسائیت کا عالم آج اتنا وسیع ہے جتنا پہلے کبھی نہیں تھا۔تم دیکھ سکتے ہو کہ ہماری ملکہ جس کی سلطنت پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا وہ ناصرہ کے مصلوب کی خانقاہ پر تابعداری کے ساتھ جھکتی ہے۔یا پھر گاؤں کے گر جا میں جا کر نظر دوڑاؤ، وہ سیاسی مد بر جو ایک عالمگیر حکومت کی قسمت کے فیصلے کرتا ہے، جب مسیح کے نام پر دعا کرتا ہے تو عاجزی سے اپنا سر جھکاتا ہے۔جرمنی کے نوجوان قیصر کو دیکھو وہ اپنے لوگوں کے لئے پادری کے فرائض سرانجام دیتا ہے اور انجیلی مذہب سے اپنی وفاداری کا عہد کرتا ہے، جو یسوع کی تخلیق ہے۔اور مشرقی انداز میں ماسکو کے شاہانہ ٹھاٹھ میں زار روس کو دیکھو۔تاجپوشی کے وقت ابنِ آدم کے طشت میں رکھ کر اُسے تاج پیش کیا جاتا ہے۔اور وسیع مغربی ریپبلک (یعنی امریکہ) کا ایک کے بعد دوسرا صد ر سادہ مگر گہرے انداز میں ہمارے خداوند کے ساتھ اظہار فرمانبرداری کرتا چلا جاتا ہے۔امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور روس کے حکمران یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ یسوع مسیح کے وائسرائے ہیں۔(۳) مذہب کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کا اپنے خدا سے ایک زندہ تعلق پیدا کرے۔اور اسے حقوق اللہ اور اپنے جیسے انسانوں کے حقوق ادا کرنا سکھائے۔اگر یہ پرکھنا ہے کہ کون سا مذہب ایسا ہے کہ تمام انسانوں کی ضرورتوں کو پورا کر سکے تو یہ دیکھنا چاہئیے کہ وہ کون سا مذ ہب ہے جو مذکورہ بالا امور میں تمام انسانیت کی راہنمائی کر سکتا ہے۔ایک عالمی مذہب کی تلاش کا معیار یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کے پیروکار بادشاہوں کے تاج کتنے قیمتی ہیں یا تخت کتنے شاہانہ ہیں یا انہوں نے کتنی زیادہ کمزور اقوام کو بزور شمشیر اپنا غلام بنایا ہوا ہے۔بیروز صاحب اور اُن جیسے دوسرے پادریوں کے دلائل کے اس انداز کوکوئی صاحب عقل قبول نہیں کر سکتا۔ان کے دوسرے لیکچر میں بلی مکمل طور تھیلے سے باہر آگئی۔اس عسکری غلبے پر انحصار کر کے کے عالم اسلام کے متعلق عیسائیت کے ان منادیوں کے منصوبے کیا تھے؟ بیروز صاحب نے اس لیکچر میں اعلان کیا اب میں مسلمانوں کے ممالک میں تحریک کا نقشہ کھینچتا ہوں۔لبنان اور فارس کے