سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 587 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 587

587 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک کتاب پر پابندی اور ان احکامات کی منسوخی اٹھارہویں صدی کے اختتام پر ہندوستان کے مسلمان ایک دور ابتلاء سے گذر رہے تھے۔انگریز حکومت کے قیام کے بعد مختلف چرچوں کے پادری ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لوگوں کو عیسائی بنانے کے لئے سرگرم عمل تھے۔مسلمانوں کی اکثریت اپنی پسماندگی کے باعث صحیح دفاع کرنے کے قابل بھی نہیں تھی۔ایشیا اور افریقہ کے اکثر علاقے یورپ کی عیسائی حکومتوں کے محکوم تھے۔عیسائی مشنری نہ صرف اس تسلط کا فائیدہ اٹھارہے تھے بلکہ اسے عیسائیت کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش بھی کرتے تھے۔اس کا اندازہ اس ایک مثال سے لگایا جا سکتا ہے۔۱۸۹۷ء میں امریکہ کے ایک مشنری ڈاکٹر جان ہنری بیروز ( Barrows) نے ہندوستان میں مختلف مقامات پر لیکچر دیئے۔یہ صاحب ۱۸۹۳ء میں امریکہ میں ہونے والی پہلی مذہبی پارلیمنٹ کے صدر بنے تھے اور یونیورسٹی آف شکاگو میں پڑھانے کے علاوہ Presbyterian چرچ کے مشنری بھی تھے۔انہوں نے ۱۸۹۶ء کے آخری دنوں میں ہندوستان میں قدم رکھا اور اور ایک طوفانی دورے کا آغاز کیا۔اس دورے کے آغاز پر انہوں نے کلکتہ میں چھ لیکچر دیے۔اس کے بعد وہ لکھنو گئے اور وہاں دو لیکچر دیئے، کانپور اور دہلی میں چار اور لاہور میں اُن کے پانچ لیکچر ہوئے ،اس کے بعد وہ امرتسر ، آگرہ، جے پور، اجمیر ،احمد نگر ، پونا، بنگلور ، مدراس اور دوسرے شہروں میں بھی گئے اور وہاں پر بھی اُن کے لیکچر ہوئے۔ان کے لیکچروں کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ اب زمانہ ترقی کر رہا ہے۔پہلے اسلام، ہندومت، بدھ مت اور عیسائیت نے چھوٹے چھوٹے اور علاقائی مذاہب کو ختم کیا تھا اور اب وقت آ گیا ہے کہ کہ تمام انسانیت ایک عالمی مذہب اختیار کرلے اور وہ اپنا یہ دعویٰ پیش کر رہے تھے کہ صرف عیسائی مذہب میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ اسے تمام بنی نوع انسان اپنے عالمی مذہب کے طور پر قبول کریں۔ان کے لیکچروں کو اتنی شہرت دی جا رہی تھی کہ نہ صرف بڑے بڑے