سلسلہ احمدیہ — Page 463
463 جانشینی کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔چنانچہ مستند اور باخبر حلقوں کا بیان ہے۔کہ اس وقت ربوہ کی آبادی میں بہت ہیجان اور اضطراب بر پا ہے۔اور ہر پارٹی یہ چاہتی ہے کہ جماعت کی عنانِ اقتدار اس کے ہاتھ میں آجائے۔مضبوط عنصر اس کوشش میں ہے کہ جماعت کی امارت پر قبضہ کر لیا جائے۔یا متوازی جماعت جنم دے کر نیا امیر منتخب کر لیا جائے۔‘ (۱۵) افواہیں اڑانے کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح جماعت میں انتشار اور مایوسی پیدا کی جائے۔اور اس طریق پر منافقین کے اُس گروہ کو بھی شہ دی جائے جن کی پرورش وہی ہاتھ کر رہے ہوتے ہیں جو ان اخبارات کو غیبی مدد دے کر جماعت کی مخالفت پر آمادہ کرتے ہیں۔چنانچہ ان اخبارات نے جن میں زمیندار اور مغربی پاکستان بھی شامل تھے یہ خبریں شائع کرنا شروع کر دیں کہ اب جماعت کا مرکز ربوہ سے انڈونیشیا میں منتقل کیا جا رہا ہے۔اور زمیندار نے تو پوری کہانی بنا کر شائع کی کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے وزیر خارجہ ہوتے ہوئے احمدیوں کو یہ ڈھارس تھی کہ حکومت میں ہمارا نمائندہ ہے مگر ان کے استعفیٰ کے ساتھ اب احمدی اپنے تبلیغی ذرائع کو محدود پاتے ہیں۔اس لئے وہ اب اپنا مرکز انڈونیشیا منتقل کر رہے ہیں۔اور اس غرض کے لئے مرزا ناصر احمد صاحب نے انڈونیشیا کا دورہ بھی کیا ہے۔حالانکہ آپ تمام عمر کبھی انڈو نیشیا نہیں گئے تھے۔) (۱۷،۱۶) ایسے اخبارات جب مستند اور باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہیں تو اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ ایک ایڈیٹر یا صحافی نے دفتر کی کرسی پر بیٹھے بیٹھے ایک خبر گھڑی اور کا تب یا سٹینو گرافر کو لکھنے کے لئے دے دی۔ان کے باخبر ہونے کا عالم یہ تھا کہ یہ خبر چھاپتے ہوئے زمیندار نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا نام تک غلط لکھا ہوا تھا اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو حضور کا ایک قریبی عزیز لکھا ہوا تھا۔جب کہ وہ صرف آپ کے عزیز نہیں بیٹے تھے لیکن جماعت کی تاریخ میں بارہا اس انداز میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔خاص طور پر جب بھی خلیفہ وقت علیل ہوں تو اس انداز میں فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سازش ہمیشہ ناکام ہوتی رہی ہے مگر سورۃ الناس کی روشنی میں مومنوں کی جماعت کو ہمیشہ ان وسوسہ اندازوں سے ہوشیار رہنا چاہئیے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنی چاہئیے۔اور قرآنِ کریم کا حکم ہے کہ جب مومنوں کے