سلسلہ احمدیہ — Page 337
337 علاقے میں لڑنے والے مشکلات میں مبتلاء ہو گئے۔لیکن ان کامیابیوں کے باوجود ہندوستان کی فوج کو محاذ پر بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔اور جنگ طول پکڑتی جا رہی تھی۔اور انہیں مقامی آبادی کی اکثریت کی مخالفت کا بھی سامنا تھا۔دونوں ممالک کے گورنر جنرلوں اور پھر دونوں کے وزراء اعظم کے درمیان مذاکرات ہوئے مگر بات صرف دلائل کے تبادلے تک ہی محدود رہی۔اب اطلاعات مل رہی تھیں کہ ہندوستان یہ قضیہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانا چاہتا ہے۔آزادی کے معاً بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازعات انتہائی افسوسناک تھے۔اور ان کی وجہ سے اس خطے کے لوگ طرح طرح کے مصائب میں مبتلاء ہورہے تھے۔لیکن بااثر لوگوں کا ایک طبقہ امن کی کوششوں کی بجائے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی باتیں کر رہا تھا۔اخباروں میں شائع ہونے والی یہ خبر سب کے لئے تشویش کا باعث بنی کہ ہندوستان کے جنرل کرائپا (Cariapa) نے لندن میں ایک تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کی افواج چار پانچ سال میں پھر سے پاکستان اور ہندوستان کو متحد کر دیں گی (۳۰)۔اس صورتِ حال میں جلتی پر تیل چھڑ کنے کے لئے مشہور سکھ لیڈر تاراسنگھ صاحب نے بیان دیا کہ اب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ ناگزیر ہو چکی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس کے جواب میں ایک پریس کانفرنس میں فرمایا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہونے کی صورت میں اس خطے میں ایک تیسری طاقت کو پاؤں جمانے کا موقع مل جائے گا اور غیر ملکی زنجیروں سے آزادی کے معا بعد کوئی بھی دوبارہ اپنی گردن پر ایک نیا جوا پسند نہیں کرے گا۔حضور نے تجویز پیش فرمائی کہ دونوں ممالک جنگ کرنے کی بجائے مل کر مشترکہ دفاع تیار کریں۔(۳۱) افسوس اس بر وقت نصیحت کی قدر نہیں کی گئی۔اور وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک میں اختلافات گہرے ہوتے گئے۔اور یہاں کے لوگوں کو ایک طویل عرصہ اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور یہ المیہ اب تک جاری ہے۔حضور نے دسمبر ۱۹۴۷ء میں الفضل میں ایک مضمون میں تحریر فرمایا کہ تقسیم ہند کے المیے میں لاکھوں آدمیوں کے ہلاک ہونے کے بعد بھی ہندوستان اور پاکستان میں کچھ لوگ ایک دوسرے کے علاقہ کو فتح کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔اور چونکہ ہندوستان ایک بڑا ملک ہے اس لئے ایسے لوگ ہندوستان میں زیادہ ہیں۔آپ نے دونوں ممالک کے درمیان صلح کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تحریر فرمایا،