سلسلہ احمدیہ — Page 338
338 اس حالت کے بدل جانے پر اور مسلمانوں کا ایک علیحدہ وجود بن جانے پر اگر کوئی ایسی صورت نکل سکے کہ پاکستان اور ہندوستان اپنی آزادیوں کو قائم رکھتے ہوئے پھر متحد ہو جائیں تو اس سے زیادہ اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ایسا متحدہ ہندوستان یقیناً ایشیا میں ایک بہت بڑا درجہ حاصل کر سکتا ہے۔۔۔ہندوستان اور پاکستان کے اتحاد کے ہرگز یہ معنے نہیں کہ دونوں طاقتوں میں سے کوئی بھی اپنی آزادی کو کھو دے۔ان آزادیوں کو قائم رکھتے ہوئے بھی یہ دونوں ملک ایک ہو سکتے ہیں۔اس سے بھی زیادہ ایک جتنا کہ وہ ایک ہندوستان کے وقت میں تھے۔اور پھر یہی قدم مزید اتحاد کے لئے رستہ کھول سکتا ہے۔ہمیں جذبات کی رو میں نہیں بہنا چاہئیے۔ہمیں موجودہ صورتِ حال کو تسلیم کرتے ہوئے اختلافات کی جھیل کو پاٹنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔(۳۲) لیکن افسوس اُس وقت کے ماحول میں بہت کم لوگ صلح کا پیغام سننے پر آمادہ تھے۔پاکستانی خارجہ پالیسی کی زبوں حالی: دسمبر کے آخر تک ابھی کسی کو پاکستان کا وزیر خارجہ مقرر نہیں کیا گیا تھا۔اس وزارت کا قلمدان ابھی تک وزیر اعظم کے پاس تھا۔اور ان خطر ناک حالات میں پاکستان کی خارجہ پالیسی طرح طرح کی مشکلات میں گھری ہوئی تھی۔اور خود ملکی اخبارات بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بے بسی پر اعتراضات کی بوچھاڑ کر رہے تھے۔چنانچہ ۱۹ نومبر ۱۹۴۷ء کے اداریے میں اخبار احسان نے اپنے اداریے میں ان امور کے بارے میں وزیر اعظم کے بیانات کو محض اپنی بے بسی اور بے کسی کا ڈھنڈورا پیٹنا قرار دیتے ہوئے لکھا علاوہ ازیں یو این او پر ہم بھروسہ بھی کیا کر سکتے ہیں۔خصوصاً ایسی صورت میں جبکہ ہندوستان کے بین الاقوامی گھاگوں کے مقابلے میں ہمارے وکیل اصفہانی اور بیگم تصدق حسین قسم کے افراد ہیں۔آخر وہ کون سی تیاری ہے جس کے بل پر ہم یقین کریں کہ یو این او کی بین الاقوامی عدالت ہمارے معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کر کے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے گی؟ ہم تو آجنگ ان اسلامی ممالک کو بھی اپنا ہمنوا نہ بنا