سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 336 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 336

336 پوزیشن میں نہیں تھی کہ جونا گڑھ میں اپنی فوجیں بھجوا سکتی۔ہندوستان کی حکومت نے پاکستان کی حکومت کو تار کے ذریعہ اطلاع دی کہ جونا گڑھ کے دیوان (وزیر اعظم شاہنواز بھٹو کی درخواست پر ہندوستان کی حکومت نے جونا گڑھ کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔حکومت پاکستان نے اس پر احتجاج کیا کہ جونا گڑھ اب پاکستان کا حصہ بن چکا تھا۔اب قانونی طور پر دیوان یا کسی اور اس شخص کو یہ اختیار نہ تھا کہ اس معاملے میں مذاکرات کرتا۔اس لئے ہندوستان اس ریاست سے نکل جائے۔معاملہ اقوام متحدہ کی طرف بھجوایا گیا مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہؤا۔(۲۸) دوسری طرف یہ اشارے ملنے لگ گئے کہ ہندوستان کی حکومت حالات ٹھیک ہونے کے بعد کشمیر میں عوام کی رائے معلوم کرنے کے لئے کوئی رائے شماری کرانے کا رادہ نہیں رکھتی۔چنانچہ شیخ عبداللہ صاحب نے جو اُس وقت کشمیری حکومت کے سب سے با اثر رکن تھے سری نگر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ شاید اگلی بہار تک کشمیر میں ریفرنڈم نہ کرایا جائے۔اور جو کہ اب تک ہو چکا ہے اُس کی روشنی میں شاید یہاں پر سرے سے کوئی رائے شماری نہ کرائی جائے۔اور نہ یہاں کے لوگ ایسی رائے شماری کی کوئی پرواہ کرتے ہیں۔اس بیان سے ان کے ارادے واضح ہو گئے۔(۲۹) مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں : اب کشمیر میں جنگ کی آگ پوری طرح بھڑک اٹھی تھی۔ہندوستان کی باقاعدہ افواج کو اپنے مد مقابل پر برتری حاصل تھی۔مظفر آباد کے محاذ پر آزاد فوج جو سری نگر کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی اسے چکوٹھی تک پسپائی اختیار کرنی پڑی۔اور گلگت سے آزاد فوج نے سری نگر سے تمہیں میل تک لداخ کا تمام علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔اس برفانی علاقے میں بنیادی سہولیات سے محروم ہونے کے با وجود یه پیش رفت حیران کن تھی۔بعد میں جنرل تھمایا نے (جن کا ذکر قادیان کے حالات میں آچکا ہے ) لداخ پر ہندوستانی قبضے کو بحال کرایا۔اور قبائلی حملہ آور بالکل غیر منظم تھے۔دوسرے وہ اپنے علاقے سے اتنا دور کبھی نہیں لڑے تھے اور اس مرحلے پر اپنا عقب محفوظ کئے بغیر آگے نکلتے گئے۔ان میں کچھ جاسوسوں نے افواہ مشہور کر دی کہ ان کے مقابل دشمن ٹینک لے کر آ رہا ہے۔ان میں سے بہت سے چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت میں محاذ سے غائب ہو گئے اور اس وجہ سے ساتھ کے