سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 223 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 223

223 بیدخل کیا گیا ہے۔۔۔آپ لوگ بھی انہیں اپنا مہمان سمجھیں۔ان سے بھی اور تمام ان شریف لوگوں سے بھی جنھوں نے ان فتنہ کے ایام میں شرافت کا معاملہ کیا ہے محبت اور در گذر کا سلوک کریں اور جو شریر ہیں اور انہوں نے ہمارے احسانوں کو بھلا کر ان فتنے کے ایام میں ڈاکوؤں اور چوروں کا ساتھ دیا ہے۔آپ لوگ ان کے افعال سے بھی چشم پوشی کریں کیونکہ سزا دینا یا خدا تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے یا حکومت کے سپرد کیا ہے۔۔حضور نے صبر کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ جس حکومت میں رہو اس کے فرمانبردار بن کر رہو۔اپنی آنکھیں نیچی رکھو مگر نگاہ آسمان کی طرف بلند کرو۔اس جلسہ کے افتتاح پر ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمد یہ قادیان مکرم صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب ابن حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے جان نثار درویشوں کے ہمراہ دعا کرائی اور اس کے اختتام پر مکرم صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب ابن حضرت خلیفہ اسی الثانی نے امیر صاحب مقامی کے ارشاد پر دعا کرائی۔(۴۶) قادیان میں محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی خدمات کا آغاز: قادیان میں ٹھہر نے والوں کے لئے ابتدائی طور پر یہ سکیم تھی کہ ہر دو مہینہ کے بعد تبادلہ ہوا کرے گا اور پرانے رضا کاروں کی جگہ لینے کے لئے نئے رضا کاربھجوائے جائیں گے۔مئی ۱۹۴۸ء تک تین مرتبہ اس کے لئے کوششیں کی گئیں۔لیکن ہر مرتبہ دس پندرہ سے زیادہ لوگوں کا تبادلہ نہ ہو سکا۔کیونکہ اب دونوں حکومتیں مستحکم ہو رہی تھیں، اس لئے عارضی بنیادوں پر آنے والے افراد کو ہندوستان کے مستقل شہریوں کا درجہ نہیں مل سکتا تھا۔حضرت مصلح موعود کا فیصلہ تھا کہ خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک نہ ایک فرد اور خود حضور کے بیٹوں میں سے ایک قادیان میں موجود رہے گا۔پہلے صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب ابن حضرت مصلح موعود اور صاحبزادہ مرز اظفر احمد صاحب ابن حضرت مرزا شریف احمد صاحب قادیان میں مقیم رہے۔مگر جب جنوری ۱۹۴۸ میں یہ دونوں حضرات پاکستان واپس گئے تو کچھ عرصہ کے لئے تبادلہ میں حائل دشواریوں کی وجہ سے خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی فرد قادیان میں موجود نہیں تھا۔ایک درویش مکرم بدرالدین عامل