سلسلہ احمدیہ — Page 224
224 صاحب ان دنوں کے متعلق اپنی یاداشت میں تحریر فرماتے ہیں۔اگلے دو ماہ مارچ کی ۱۳ تاریخ تک خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی فرد درویشان قادیان میں نہیں رہا۔یہ دن بھی عجیب اداسی کے دن تھے ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے بارات بغیر دولہا کے ہو۔بڑی دعائیں کرتے ہوئے یہ وقت گزرا اور وہ روز سعید آیا کہ ایک بس میں حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ اور پندرہ مزید افراد درویشان میں شامل ہونے کے لئے آن پہنچے۔یہ دن بڑی خوشی کا دن تھا گویا عید آ گئی ہو۔(۲۹، ۴۷) اس طرح مکرم و محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے قادیان میں اپنی خدمات کا آغاز فرمایا۔اُس وقت تک ابھی آپ زیر تعلیم تھے اور ابھی آپ کی شادی نہیں ہوئی تھی۔پہلے یہی فیصلہ تھا کہ آپ عارضی طور پر قادیان میں رہیں گے اور کچھ ماہ کے بعد خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی اور فرد آپ کی جگہ قادیان ڈیوٹی کے لئے آئے گا۔لیکن جب واپسی کا مقررہ وقت آیا تو تبادلہ میں بہت سی مشکلات حائل تھیں اور اس کے بعد جب واپس جانے کا موقع آیا تو آپ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کمرے میں ایک لمبی دعا کے بعد رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو مستقل طور پر قادیان میں رہنے کے لئے پیش کیا اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی یہ درخواست قبول فرمالی۔آپ نے حضرت عبد الرحمن جٹ صاحب کی وفات کے بعد ایک طویل عرصہ صدر انجمن احمدیہ کے ناظرِ اعلیٰ اور قادیان کے امیر مقامی کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔افسوس کہ اس کتاب کی تالیف کے دوران آپ کا انتقال ہوگیا۔انا لله و انا اليه راجعون۔ایک بار رسول کریم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کن لوگوں پر سب سے زیادہ آزمائشیں آتی ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ انبیاء پر ، پھر صالحین پر اور پھر ان کی طرح کے لوگوں پر۔ہر شخص کو اس کے دین کی مضبوطی کے حساب سے آزمایا جاتا ہے۔جس کا دین مضبوط ہو اس پر زیادہ آزمائشیں آتی ہیں اور جس کے دین میں کمزوری ہو اس پر کم آزمائشیں آتی ہیں۔اور یہ آزمائشوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا یہاں تک کہ بندہ اس حالت میں زمین پر چلتا ہے کہ اس کی کوئی خطا باقی نہیں رہتی۔(۴۵) الہی جماعتوں پر ابتلاء اس لئے آتے ہیں تا کہ وہ ان سے سرخرو ہو کر نکلیں اور پہلے سے زیادہ رفعتوں کی