سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 563 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 563

563 مکرم مولا ناسیم سیفی صاحب کو لکھا کہ گیمبیا میں بھی احمد یہ مشن قائم ہونا چاہیے اور یہ بھی لکھا کہ آپ خود یہاں آکر یہاں کے حالات کا مطالعہ کریں۔نسیم صاحب نے گیمبیا آنے کی اجازت طلب کی مگر حکومت نے انہیں ویزا دینے سے انکار کر دیا۔ان کے علاوہ سیرالیون سے بھی بعض مبلغین نے گیمبیا کے ویزے کی درخواست دی مگر انہیں بھی ویزا نہیں دیا گیا۔حالانکہ اُس وقت سیرالیون ، گیمبیا اور نائیجیریا کے ممالک برطانوی حکومت کے ماتحت تھے (۱)۔آپ نے ۱۵ اگست ۱۹۵۵ء کو گیمبیا کے انگریز گورنر کے نام خط لکھ کر درخواست کی کہ جماعت احمدیہ کے مبلغ کو گیمبیا میں آنے کی اجازت دی جائے۔جب دو ماہ تک کوئی جواب نہیں آیا تو آپ نے یاد دہانی کا خط لکھا۔دفتر کی طرف سے جواب آیا کہ مذکورہ خط ریکارڈ میں نہیں مل رہا ، اس لئے اس خط کی نقل بھجوائی جائے۔جب یہ نقل انہیں بھجوائی گئی تو مبلغ کو گیمبیا میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی بجائے حکومت نے یہ معاملہ مسلم کانگرس گیمبیا کے حوالے کر دیا۔اور دارالحکومت باتھرسٹ (جس کا نام اب بانجل ہے) کے امام صاحب کو ہدایت دی گئی کہ وہ مسلمان زعماء کی میٹنگ میں اس بارے میں مشورہ کر کے اپنے فیصلے سے حکومت کو مطلع کریں۔امام صاحب باتھرسٹ حکومت سے بالواسطہ طور پر تنخواہ پاتے تھے اور جماعت کے مشن کے قیام کے نتیجے میں ان کی لیڈر شپ کو خطرہ ہوسکتا تھا۔اس لئے انہوں نے میٹنگ کے بعد حکومت کو رپورٹ دی کہ گیمبیا میں احمدیہ مشن کا قیام مناسب نہیں کیونکہ یہ نہ مالکی ہیں نہ حنفی نہ شافعی نہ حنبلی اور نہ ہماری اقتداء میں نمازیں پڑھتے ہیں (۱) جب یہ رپورٹ حکومت کو ملی تو اس نے احمدی مبلغ کو گیمبیا میں داخل ہونے کا جازت نامہ دینے سے انکار کر دیا۔حکومت سے خط و کتابت کر کے فیصلہ پر نظر ثانی کی اپیل کی گئی مگر یہ کوشش بے سود ثابت ہوئی۔اس دوران مکرم لامین بارا انجائے صاحب نے با قاعدہ بیعت کر لی اور کئی مسلمان نوجوانوں کو اپنا ہم خیال بنالیا۔نوجوانوں کا یہ گروہ گیمبیا میں جماعت کے مشن کے قیام کے لئے کوشاں تھا۔ان دنوں میں سیرالیون کے ایک مسلمان لیڈر مصطفے سنوسی صاحب جو بعد میں سیرالیوں کے وزیر خزانہ بھی بنے، گیمبیا آئے۔انہوں نے گیمبیا کے مسلمان زعماء کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے زور دے کر یہ بات کہی کہ وہ جماعت احمدیہ کے مبلغ کو گیمبیا میں آنے سے نہ روکیں کیونکہ اس میں اُن کا ہی نقصان ہے۔جماعت کے مخالفین پر تو اس کا کوئی اثر نہیں ہو مگر کچھ روشن خیال مسلمان اس