سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 562 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 562

562 گیمبیا مشن کا قیام جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے اب تک نائیجیریا، سیرالیون ، غانا اور لائیپیر یا میں جماعتیں قائم ہو چکی تھیں۔اور ان ممالک میں مشن بھی کام شروع کر چکے تھے۔برصغیر اور انڈونیشیا کی طرح برطانوی مغربی افریقہ میں بھی بڑی بڑی جماعتیں قائم ہو رہی تھیں۔گیمبیا افریقہ کے مغربی ساحل کے اوپر ایک چھوٹا سا ملک ہے۔اس کا رقبہ دریائے گیمبیا کے اردگرد ایک پٹی تک محدود دو ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔افریقہ کے مغربی ساحل پر جماعت احمدیہ پھیل رہی تھی لیکن گیمبیا ابھی تک اس سے محروم تھا۔محدود وسائل کی وجہ سے ابھی گیمبیا میں مبلغ بھجوانے کا پروگرام بھی نہیں تھا۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ گیمبیا کی ایک خاتون تعلیم کے لئے سیرالیون گئیں اور وہاں ایک گھر میں انہیں نماز کے متعلق جماعت کی شائع کردہ ایک کتاب ملی۔انہوں نے یہ کتاب گیمبیا میں پنے ایک عزیز کو بطور تحفہ بھجوائی۔اس کے ایک دوست لامین بارا انجائے صاحب Lamin Barra Nine) نے یہ کتاب اصرار کر کے تین دن کے لئے عاریتاً کی لامین صاحب کے والد ایک پرانی طرز کے متدین عربی دان اور عالم تھے لیکن ۳۳ سالہ لامین کو مذہب کے متعلق صرف یہی علم تھا کہ وہ مسلمان ہیں اور مسلمان والدین کی اولاد ہیں۔لامین بارا انجائے صاحب نے یہ کتاب پڑھی تو بہت متاثر ہوئے۔اس کتاب پر جماعت کے نائیجیریا مشن کا پتہ درج تھا۔انہوں نے نائیجیریا مشن کو لکھا کہ انہیں کچھ لٹریچر بھجوایا جائے۔اُس وقت مولا نانسیم سیفی صاحب نائیجیریا کے امیر اور مغربی افریقہ کے رئیس التبلیغ تھے۔نسیم سیفی صاحب نے انہیں لٹریچر بھجوایا اور خط میں انہیں اپنے ملک میں اسلام کی تبلیغ کرنے کی تحریک بھی کی۔اللہ تعالیٰ نے لامین بارا انجائے صاحب کو سعید فطرت عطا کی تھی اور ان کا سینہ قبول حق کے لئے کھول دیا تھا اور انہوں نے سنجیدگی سے دینی مطالعہ شروع کر دیا۔ان کے والد اپنے بیٹے میں یہ تبدیلی دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔لامین صاحب نے با قاعدہ بیعت تو ۱۹۵۸ء میں کی لیکن اس سے پہلے بھی وہ گیمبیا میں جماعت کے مشن کے قیام کے لئے مسلسل کوششیں کرتے رہے۔آپ نے