سلسلہ احمدیہ — Page 564
564 بات کے حق میں ہو گئے کہ جماعت کے مبلغ کو یہاں آنے سے نہیں روکنا چاہیئے۔آخر لا مین صاحب اور ان کے ساتھ چند نو جوانوں کو امام صاحب کے مقابلہ پر آنا پڑا۔انہوں نے ایک پرائمری سکول کے ہال مین ایک میٹنگ منعقد کی۔اس میں تقریر کرتے ہوئے لامین صاحب نے کہا کہ احمدیہ مشن والے لوگوں کو اسلام سکھاتے ہیں ، عیسائیت سے بچاتے ہیں۔سیرالیون، گولڈ کوسٹ اور نائیجیریا میں انہوں نے اسلام کی شاندار خدمات سرانجام دی ہیں۔اس لئے ہمارے ملک میں بھی احمد یہ مشن قائم ہونا چاہئیے۔امام صاحب کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ گیمبیا میں عیسائیوں مشنریوں کے کام کرنے پر کوئی اعتراض نہ کریں، مگر احمد یہ مشن کے قیام کی مخالفت کریں۔جواب میں مخالفین نے بھی تقاریر کیں۔اس طرح یہ اجلاس بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہو گیا۔مگر اس کے بعد امام صاحب کے کچھ حریفوں نے گورنر کو لکھا کہ ہمیں امام صاحب باتھرسٹ کی رائے سے اتفاق نہیں اور جماعت احمد یہ کے مشن پر اعتراض نہیں ہونا چاہئیے۔(۱) اس صورتِ حال میں مکرم وکیل التبشیر صاحب نے فیصلہ کیا کہ اگر پاکستانی مبلغ کو وہاں جانے کی اجازت نہیں مل رہی تو افریقہ کے کسی ملک سے وہاں کے مقامی مبلغ کو گیمبیا بھجوا دیا جائے۔۱۹۵۹ء کے آخر تک حالات اتنے سازگار ہو چکے تھے کہ نائیجیریا سے ایک مبلغ مکرم حمزہ سنسیالو (Hamza Sanyalo) صاحب کو عارضی ویزا پر گیمبیا بھجوایا گیا۔سنیالوصاحب تقریباً تین ماہ تک گیمبیا ر ہے اور اس دوران کئی احباب بیعت کر کے میں داخل ہوئے۔اسی دوران جماعت احمد یہ گیمبیا کے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا اور یہاں پر باقاعدہ نظام جماعت کا آغاز ہوا۔سنیالوصاحب کے دورہ کے دوران گیمبیا کی اہم مسلمان شخصیات کے ساتھ میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔اس میٹنگ میں مقررین نے احمد یہ مشن کے قیام کے حق میں تقاریر کیں اور حاضرین نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا۔اس کے بعد جماعت گیمبیا کے پریذیڈنٹ ھاؤسن مصطفے کیٹا صاحب Howson Mustapha Keita) نے اس میٹنگ کا حوالہ دے کر حکومت کو درخواست کی کہ گیمبیا میں جماعت کے مرکزی مبلغ کو آنے کی اجازت دی جائے۔حکومت نے پھر امام باتھرسٹ سے اس بارے میں مشورہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔احمدیوں نے بہت سے سرکردہ مسلمانوں سے رابطے کئے مگر یہ لوگ جماعت کے مشن کے قیام کی مخالفت کرتے رہے البتہ رائے عامہ بڑی حد تک