سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 339 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 339

339 سکے جو بغیر کسی جد و جہد کے محض اسلامی تڑپ کی بنا پر ہماری آواز میں آواز ملانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔کشمیر پر اغیار کا قبضہ ہو گیا۔جونا گڑھ چھین لیا گیا۔منادر کو ہڑپ کرلیا گیا مگر دنیا کی حکومتوں کو چھوڑئیے کیا کسی ایک اسلامی حکومت کو بھی ہم نے ان حالات کے متعلق کوئی ایسی واقفیت بہم پہنچائی جس کے نتیجے میں ہمارے بین الاقوامی ہمدردوں کا دائرہ وسیع ہو سکتا؟ پھر کیا ہم انہی تیاریوں کے ساتھ یو این او میں جائیں گے؟ اور پھر وزیر اعظم کے بیان کے متعلق لکھا کہ اس میں ہم وفاداروں کے لئے کوئی پیامِ امید نہیں صرف پیام بدحواسی ہے اس طرح انہوں نے قوم کے حو صلے کو بلند نہیں کیا الٹا پست کیا ہے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ بنتے ہیں: اب اس بات کی ضرورت تھی کہ ایسے شخص کو پاکستان کا وزیر خارجہ مقرر کیا جائے جو ان نامساعد حالات میں عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔اس وقت بین الاقوامی سیج پر ہندوستان کا طوطی بول رہا تھا۔اور اسی بھروسے پر ہندوستان کی حکومت کشمیر کا مسئلہ یو این او میں لے جانے کی تیاری کر رہی تھی۔جب حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اقوام متحدہ سے پاکستان واپس آئے تو قائد اعظم نے انہیں کہا تھا کہ اب انہیں نواب بھوپال کی ملازمت ترک کر کے پاکستان کے لئے خدمات سرانجام دینی چاہئیں۔اور وزیر اعظم نے کہا تھا کہ قائد اعظم کی خواہش ہے کہ حضرت چوہدری صاحب پاکستان کے وزیر خارجہ کا منصب سنبھالیں۔۲۵ دسمبر ۱۹۴۷ء کو قائد اعظم کا یوم پیدائش تھا۔ان کے اعزاز میں کراچی میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ان کی آمد پر وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب نے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو اشارہ کیا کہ وہ قائد اعظم کی بائیں طرف بیٹھ جائیں۔قائد اعظم نے بیٹھتے ہی کہا ظفر اللہ خان وزارتِ خارجہ کے منصب کا حلف لے گا۔اور حضرت چوہدری صاحب نے اس منصب کا حلف اٹھایا۔اسی مجلس میں قائد اعظم نے چوہدری صاحب کو برما کے یومِ آزادی کے موقع پر برما جانے کا کہا۔یکم جنوری کو چوہدری صاحب رنگون کے لئے روانہ ہوئے۔اسی دن ہندوستان نے کشمیر کا