سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 340 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 340

340 معاملہ سلامتی کونسل میں پیش کر دیا۔اور اس درخواست کی سماعت کے لئے ۱۲ جنوری کی تاریخ مقرر ہوئی۔چوہدری صاحب کے جنوری کو کراچی پہنچے تو ڈپٹی سیکریٹری نے انہیں بتایا کہ انہیں سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے کل ہی نیو یارک کے لئے روانہ ہونا پڑے گا۔ایک بار پھر چوہدری صاحب کو کیس کی تیاری کے لئے مناسب وقت نہیں مل سکا تھا۔جلدی میں کاغذات سمیٹے گئے۔بے سروسامانی کا یہ عالم تھا کہ ان کے لئے بکس تک میسر نہیں تھا۔چنانچہ ان کو بوریوں میں بند کیا گیا۔خوش قسمتی سے چوہدری محمد علی صاحب ( جو بعد میں پاکستان کے وزیر اعظم بھی بنے ) وفد میں شامل تھے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے الفاظ میں ان کی لیاقت ، تدبر اور تبحر علمی سے پورا پاکستان واقف ہے۔اور ان کی موجودگی باعث اطمینان تھی۔طیارے میں خرابی کی وجہ سے راستے میں لندن رکنا پڑا۔اسی ایک دن میں وہاں پاکستانی ہائی کمیشن میں تیاری شروع کی۔اور پاکستان کا بیان تیار کیا گیا۔اس وقت کے ہوائی سفر بھی بہت طویل ہوتے تھے۔جب گینڈر کے ہوائی اڈے پر رکے تو برفانی طوفان جاری تھا۔رات کو ایئر پورٹ میں ہی قیام کیا اور وہیں پر سٹینوگرافر نے مسودہ ٹائپ کیا اور بیچ میں صرف لکڑی کی دیوار تھی۔ٹائپ رائیٹر کے شور نے وفد کو صحیح سے سونے بھی نہ دیا۔اگلی صبح جب جہاز نیو یارک پہنچا تو پاکستان کے سفیر نے بتایا کہ جہاز لیٹ ہونے کی وجہ سے سلامتی کونسل کا اجلاس ۱۵ تک ملتوی کر دیا گیا۔اسطرح مزید دوروز تیاری کے لئے مل گئے۔وفد نے اس پر اللہ کا شکر ادا کیا۔اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ جب حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے وزارت خارجہ کا منصب سنبھالا تو یہ کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی۔غیر تو غیر اپنے بھی کہہ رہے تھے کہ پاکستان کے سفارتکار ہندوستان کے کہنہ مشق سیاستدانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اور جن سہولیات کے ساتھ یہ کام شروع کیا گیا تو اس کا اندازہ تو مندرجہ بالا حقائق سے بخوبی ہو جاتا ہے۔سلامتی کونسل کے اجلاس کا آغاز : ۱۵ جنوری کو اس تاریخی اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔قاعدے کے لحاظ سے ہندوستان اس قضیہ میں مستغیث تھا۔ان کے وفد کے سربراہ آئینگر تھے اور ان کے ہمراہ ستیلواڈ صاحب (جو باؤنڈری کمیشن میں کانگرس کے وکیل تھے ) اور گر جاشنکر باجپائی اور شیخ عبداللہ صاحب بھی ہندوستان