سلسلہ احمدیہ — Page 203
203 اس مرحلے پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جماعت کے نام ایک اہم پیغام شائع فرمایا۔اس میں حضور نے اس ابتلاء کے موقع پر نمازوں اور روزوں کی طرف توجہ دلائی۔حضور نے فرمایا کہ آج ہی اپنے دل میں عہد کر لیں کہ قادیان کی حفاظت کرتے چلے جانا ہے اور اگر ہندوستانی حکومت کے دباؤ کی وجہ سے ہمیں اگر قادیان خدا نخواستہ خالی کرنا پڑے تو ہر ایک احمدی قسم کھالے کہ وہ اسے واپس لے کر چھوڑے گا۔اس مصیبت کے وقت احمدی زیادہ سے زیادہ کمائیں ، کم سے کم خرچ کریں اور زیادہ سے زیادہ چندہ دیں۔اس وقت ہر مسلمان سے ہمدردی کرنا ہمارا نصب العین ہونا چاہئیے۔اب اختلافات پر زور دینا اور احمدی اور غیر احمدی پر زور دینا ایک قومی غداری ہوگی۔حضور نے تاکید فرمائی کہ کبھی کسی غریب اور بے کس پر ظلم نہ کرو۔ہر ہندو اور سکھ بھی خدا تعالیٰ کا بندہ ہے۔پس ان تمام اختلافات کے باوجود ایک ہندو بھی ہمارا بھائی ہے اور ایک سکھ بھی ہمارا بھائی ہے۔ہم اس کو ظلم نہیں کرنے دیں گے مگر ہم اس پر ظلم ہونے بھی نہیں دیں گے۔یہ بھی سوچو کسی دن یہ لوگ اسلام میں داخل ہو کر اسلام کی ترقی کا موجب ہوں گے۔کل جس باغ کے پھل ہمیں ملنے والے ہیں۔ہم اسے کیوں اجاڑیں۔(۱۳) قادیان کے گرد گھیراتنگ ہوتا ہے: یہ گرفتاریاں ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھیں کیونکہ ان کے ساتھ ہی قادیان اور اسر بالکل متصل احمدی دیہات پر حملے شروع ہو گئے۔اب تک جو گاؤں ان حملوں کا نشانہ بنے تھے وہ قادیان سے کچھ فاصلے پر تھے۔۶ استمبر کو قادیان کے شمال مغربی محلے اسلام آباد پر سکھوں کا حملہ ہوا۔۸ استمبر کو شمال میں قادیان سے ملحقہ گاؤں موضع کھارا پر ہزاروں سکھوں نے ہندوستانی ملٹری کی موجودگی میں حملہ کیا اور اگلے روز یہ گاؤں خالی کرا لیا گیا۔اس کے ایک دن بعد قادیان کے شمالی محلے دار السعہ پر سکھ جتھوں نے پولیس کی مدد سے حملہ کیا اور اسے بھی زبردستی خالی کرالیا گیا۔9 ستمبر کو قادیان کے جنوب پر حملے شروع ہوئے اور بہشتی مقبرہ سے ملحقہ گاؤں منگل باغبان کو سکھ جتھوں نے پولیس کی مدد سے حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔اور اس کے اگلے روز حسب سابق پولیس نے بلوائیوں کی مدد کی اور قادیان سے متصل گاؤں قادر آباد کو بھی خالی کرالیا گیا۔(۱۴)