سلسلہ احمدیہ — Page 204
204 مغربی پنجاب سے روزانہ ہزاروں ہندو اور سکھ مجبوری کی حالت میں مشرقی پنجاب پہنچ رہے تھے۔ہندوستان کی حکومت ان کو وہ جائیدادیں اور مکانات الاٹ کر رہی تھی جن سے مسلمانوں کو زبر دستی بے دخل کیا گیا تھا اور اس بات کا انتظار نہیں کیا جا رہا تھا کہ مسلمان حالات ٹھیک ہونے پر اپنی جگہوں پر واپس آجائیں۔اگر چہ دونوں حکومتیں اعلانات کر رہی تھیں کہ کسی کو زبردستی اپنی جگہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔اگر یہ لوگ واپس آتے تو جاتے کہاں ان کا سب کچھ لٹ چکا تھا اور جائیداد میں دوسروں کو دے دی گئی تھیں۔چنانچہ ستمبر کے وسط تک صرف ضلع امرتسر میں نقلِ مکانی کرنے والے ۲۵ ہزار ہندؤں اور سکھوں کو وہ زرعی زمینیں الاٹ کر دی گئی تھیں جن سے مسلمانوں کو بے دخل کیا گیا تھا۔اور اسی طرح اس وقت تک اسی فیصد مکانوں اور دوکانوں پر بھی قبضہ ہو چکا تھا۔(۱۵-۱۶) اس منحوس چکر کو روکنے کے لئے دونوں حکومتوں میں مفاہمت بھی ہوئی مگر نتیجہ صفر نکلا۔۱۵ ستمبر کو وزیر اعظم پاکستان نے ہندوستان کی حکومت پر اس کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا اور واضح کیا کہ ان کے نزدیک مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا قتل عام ایک ناپاک سازش ہے جس کا مقصد پاکستان کی ریاست کو اس کے آغاز سے ہی ناکام بنا دینا ہے۔(۱۷) جواب میں وزیر اعظم ہندوستان پنڈت جواہر لال نہرو نے اس الزام کی تردید کی کہ پاکستان کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور کہا کہ ہندوستان کی فوج مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے ہر پناہ گزیں کیمپ اور نقلِ مکانی کرنے والے تمام قافلوں کی حفاظت کر رہی ہے۔(۱۸) گومشرقی پنجاب مسلمانوں سے خالی ہو رہا تھا لیکن فساد کرنے والوں کو قادیان میں بالکل علیحدہ صورتِ حال نظر آرہی تھی۔قادیان کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا تھا۔ملحقہ دیہات پر اور بعض مضافات پر فوج اور پولیس کی مدد سے بلوائی قبضہ کر چکے تھے۔دار مسیح کے بالکل ساتھ ہندؤں کا محلہ تھا۔گو قادیان میں اب تک احمدیوں کی اکثریت تھی لیکن اتنے سالوں میں کبھی کسی ہندو یا سکھ کا بال بھی بیکا نہیں ہوا تھا۔مگر اب یہی لوگ جماعت کے خلاف زہر اگل رہے تھے اور سازشوں میں شریک تھے۔اس صورت حال میں عورتوں اور بچوں کو وہاں سے نکالا جا رہا تھا اور سلسلے کے اہم کارکنان اور بعض دیگر افراد بھی وہاں سے منتقل ہو رہے تھے۔لیکن اس کے ساتھ باہر سے احمدی قادیان کی حفاظت کے لئے وہاں پہنچ رہے تھے اور اس بات کے کوئی آثار نہیں تھے کہ دوسری جگہوں