سلسلہ احمدیہ — Page 202
202 سے روانہ ہو گیا ہے۔شاید کوئی تعجب کرے کہ جہاز سے ٹارچ کے ذریعہ زمین پر کسی قافلے کو کیسے ڈھونڈا جا سکتا ہے۔یہاں یہ سوال نہیں کہ ایسا کرناممکن ہے کہ نہیں۔اصل قابل توجہ امر یہ ہے کہ ایک شفیق باپ احمدیوں کی حفاظت کے لئے دن رات بے قرار تھا۔اس کے لئے ہر قسم کی کوششیں بھی کر رہا تھا اور ہر لمحہ ان کے لئے دعائیں بھی کر رہا تھا۔اور اصل میں ان دعاؤں کا حصار تھا جس کی حفاظت میں یہ سب قافلے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بخیر و عافیت اپنی منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔جماعتی عہدیداروں کی گرفتاریاں: یہ سب کو نظر آرہا تھا کہ مشرقی پنجاب میں کہیں پر بھی مسلمان منظم ہو کر اپنا قانونی دفاع نہیں کر رہے۔ضلع گورداسپور میں بھی جہاں پہلے مسلمانوں کی اکثریت تھی مسلمان سراسیمگی کے عالم میں اپنی جانیں بچا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔صرف قادیان اور اس کے نواح میں احمدی منظم ہو کر بلوائیوں کے ارادوں کو جزوی طور پر ناکام بنا رہے تھے۔اور اس آڑے وقت میں یہاں پر بغیر کسی حکومتی مدد کے پناہ گزینوں کی مدد بھی کی جا رہی تھی۔اس مرحلے پر فوج اور پولیس نے قادیان میں مقیم جماعتی عہدیداروں پر ہاتھ ڈالنا شروع کیا۔۱۳ اور ۴ استمبر کو حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب ناظر دعوۃ و تبلیغ مقامی کو ، جو پنجاب اسمبلی کے ممبر بھی تھے، اور مکرم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامہ کو قتل کا بے بنیاد الزام لگا کر گرفتار کر لیا گیا۔پولیس کا یہ اقدام صرف ظالمانہ ہی نہیں تھا بلکہ خلاف عقل بھی تھا۔یہ بزرگ نہ صرف شریف اور معزز شہری تھے بلکہ عمر اور صحت کے اعتبار سے بھی اس حالت میں نہ تھے کہ ان سے قتل کروائے جاتے۔اور مکرم شاہ صاحب ضعیف اور بوڑھا ہونے کے علاوہ ایک ٹانگ میں لنگ بھی رکھتے تھے (۱۱) اس کے بعد بھی جماعت کے عہد یداروں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔اور جب مولوی عبد العزیز صاحب اور مکرم مولانا احمد خان نسیم صاحب کو گرفتار کیا گیا تو ان کا منہ کالا کر کے دہاریوال کے بازاروں میں پھرایا اور لوگوں سے پٹوایا گیا۔مولوی احمد خان نیم صاحب کو ہی قریباً ایک ہزار جوتے مارے گئے۔اور یہ اذیت دے کر بار بار پوچھا جاتا کہ بتاؤ ناظر امور عامہ کے اسلحہ کے ذخائر کہاں ہیں؟ ان بزرگوں نے نہایت صبر و شکر سے یہ ابتلاء برداشت کئے۔(۱۲)