سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 143 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 143

143 ۶ امئی کو وزارتی مشن اور وائسرائے نے اپنی سکیم کا اعلان کیا۔اس منصوبے میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ مملکت کا مطالبہ منظور نہیں کیا گیا تھا۔اس سکیم کے خدو خال یہ تھے کہ تمام ہندوستان ایک مرکزی حکومت اور ایک آئین ساز اسمبلی کے ماتحت رہے گا۔مرکزی حکومت کے ماتحت امور خارجہ ، دفاع ، رابطہ اور وسائل آمد و رفت کے شعبے کام کریں گے۔ہندوستان کو تین یونٹوں میں تقسیم کیا جائے گا۔یونٹ اے ہندو اکثریت کے چھ صوبوں پر مشتمل ہوگا۔یونٹ بی میں پنجاب ،سندھ ،سرحد اور بلوچستان کے صوبے ہوں گے۔اور بنگال اور آسام مل کر یونٹ سی بنائیں گے۔ان یونٹوں کے ماتحت صوبوں کی حکومتیں ، اپنے اختیارات کے ساتھ کام کریں گی۔ہر یونٹ کے ممبران اسمبلی اگر چاہیں تو اپنے صوبوں کے لیئے مشترکہ قانونی ڈھانچہ بنا سکتے ہیں۔مگر آزادی کے بعد پہلے الیکشن ہونے پر صوبوں کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ اگر پسند کریں تو اپنے یونٹ سے علیحدگی اختیار کر لیں۔اس سکیم میں فوری طور پر عبوری حکومت بنانے کا منصوبہ بھی شامل تھا جس کی کابینہ کے تمام اراکین ہندوستانی ہوں گے۔اس کا اعلان ہونے کے بعد گاندھی جی نے اس کی بعض قانونی تشریحات پر مشتمل بیانات دیئے۔مثلاً مرکزی آئین ساز اسمبلی کو اختیار ہو گا کہ وہ مرکزی حکومت کے اختیارات میں حسب ضرورت اضافہ کرلے اور صوبوں کو یہ اختیار ہوگا کہ اگر وہ چاہیں تو شروع میں ہی اپنے یونٹ سے علیحدگی اختیار کر لیں۔چناچہ کمشن کو اس بارے میں وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا، جس کا مقصد ان شبہات کا ازالہ کرنا تھا۔اس سکیم پر غور کرنے کے لیئے جون کے آغاز میں مسلم لیگ کی کونسل کا اجلاس شروع ہوا۔اس سکیم میں مسلمانوں کے لیئے ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔اس وجہ سے ممبران پر مایوسی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔تمام بحث و تمحیث کے بعد 4 جون ۱۹۴۶ء کو مسلم لیگ کی کونسل نے اس منصوبے کو منظور کرنے کا اعلان کر دیا۔جون میں ہی کانگرس کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا اور ۲۶ جون کو کانگرس نے طویل المیعاد منصوبے کو منظور کر لیا مگر عبوری کابینہ کے متعلق تجاویز کی منظوری نہیں دی۔عبوری کابینہ کی تشکیل کے بارے میں اختلافات دور کرنے کے لیئے مذاکرات شروع ہوئے۔مگر ان کا سلسلہ طویل ہوتا گیا۔مفاہمت کی صورت پیدا ہوتی نظر نہیں آ رہی تھی۔جولائی ۱۹۴۶ء میں ابو الکلام آزاد صاحب کی جگہ پنڈت جواہر لال نہرو