سلسلہ احمدیہ — Page 142
142 بنائے گی۔اگر مشن کے ممبران انصاف کو قائم رکھیں گے تو یقیناً وہ ہندومسلم سمجھوتا کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ہندوستان کے حالات انگلستان سے مختلف ہیں۔انگلستان کے تجربے کو ہندوستان پر ٹھونسنا غلطی ہو گی۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ میں مسلمانوں کے نمایندوں کو یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ ہندوستان ہمارا بھی اسی طرح ہے جس طرح ہندؤوں کا ہے۔ہمیں بعض زیادتی کرنے والوں کی وجہ سے اپنے ملک کو کمزور کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئیے۔اور ہندو بھائیوں خصوصاً کانگرس والوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ ایک طرف تو آپ لوگ عدم تشدد کے قائل ہیں اور دوسری طرف ان کے لیڈر دھمکیاں دے رہے ہیں کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں ملک میں فساد ہو گا۔مذہبی آزادی کے حوالے سے حضور نے کانگرس کو یہ نصیحت فرمائی ایک نصیحت میں کانگرس کو خصوصاً اور عام ہندوؤں کو عموماً کرنا چاہتا ہوں کہ تبلیغ مذہب اور تبدیلی مذہب کے متعلق وہ اپنا رویہ بدل لیں۔مذہب کے معاملے میں دست اندازی کبھی نیک نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی۔وہ مذہب کو سیاست سے بدل کر کبھی چین نہیں پا سکتے تبلیغ مذہب اور مذہب بدلنے کی آزادی انہیں ہندوستان کے اساس میں شامل کر لینی چاہئیے۔اور اس طرح اس تنگ ظرفی کا خاتمہ کر دینا چاہئیے۔جو ان کی سیاست پر ایک داغ ہے۔‘ (۸) وزارتی مشن نے کام شروع کیا۔پہلے مختلف لیڈروں سے مذاکرات ہوئے، پھر دونوں سیاسی پارٹیوں کے اہم لیڈروں کی کانفرنس منعقد کی گئی۔کانگرس کی تجویز تھی کہ ہندوستان کی ایک مشترکہ آئین ساز اسمبلی ہو جو نئی مملکت کا آئین تیار کرے۔کچھ اختیارات صوبائی حکومتوں کو دیئے جائیں یا پھر صوبوں کے گروپ بنا کر انہیں مقامی ذمہ داریاں سونپی جائیں۔مسلم لیگ کا موقف تھا کہ بنگال، آسام پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان کے صوبوں پر مشتمل ایک آزاد مملکت تشکیل دی جائے ، جس کی اپنی آئین ساز اسمبلی ہو۔اور باقی ہندوستان کی علیحدہ آئین ساز اسمبلی ہو۔مسلم لیگ مفاہمت کی غرض سے یہ تجویز ماننے کے لیئے تیار تھی کہ ان دونوں مملکتوں کی آئین ساز اسمبلی کا مشترکہ اجلاس ہو سکتا ہے جس میں دونوں طرف کے برابر کے نمایندے شامل ہوں اور تمام اہم فیصلے تین چوتھائی کی اکثریت سے کیئے جائیں۔