سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 144 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 144

144 کانگرس کے صدر منتخب ہوئے۔ابوالکلام آزاد اس سکیم کی حمایت کر رہے تھے۔کانگرس کا سوشلسٹ گروہ اس کی مخالفت پر کمر بستہ تھا۔۱۰ جولائی ۱۹۴۶ء کو کانگرس کے نئے صدر نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ کانگرس آئین ساز اسمبلی میں کسی معاہدے کی شرائط میں جکڑی ہوئی داخل نہیں ہو رہی۔اور اس بات کا حق محفوظ رکھتی ہے کہ آئین ساز اسمبلی کے ذریعہ وزارتی مشن کے منصوبے کو تبدیل کر دے۔اور وضاحت کی کہ ان کے خیال میں اس بات کا امکان ہے کہ اس منصوبے میں تجویز کردہ یونٹوں کے قیام کو منظور نہیں کیا جائے گا۔اور مرکزی حکومت اپنے اختیارات میں اضافہ بھی کر سکتی ہے۔ابوالکلام آزاد صاحب بیان کرتے ہیں کہ مسلم لیگ کے قائدین کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا کہ انہوں نے کمشن کے منصوبے کو منظور کر کے پاکستان کے مطالبے کو ترک کر دیا ہے۔ان پر یہ اعلان بم کی طرح گرا۔کانگرس کے سابقہ اعلان کے برعکس اب خود کانگرس کے صدر ہی اس منصوبے کو قبول کرنے سے انکار کر رہے تھے۔اس پس منظر میں مسلم لیگ کی کونسل کا اجلاس بلایا گیا اور لیگ نے اعلان کیا کہ اگر کانگرس حکومت ملنے سے قبل ہی کئے ہوئے وعدے سے پھر رہی ہے تو اس کے وعدے کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا چنانچہ اب مسلم لیگ کو یہ منصوبہ منظور نہیں ہے۔اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ نے راست اقدام کا اعلان کر دیا۔وہ ایک بار پھر مسلمانوں کے لئے ایک آزاد ملک کا مطالبہ کر رہے تھے۔جواہر لال نہرو نے یہ بیان دینے سے قبل کانگرس کی ورکنگ کمیٹی سے مشورہ نہیں لیا تھا۔ورکنگ کمیٹی نے مبہم الفاظ میں دوبارہ مشن کے پلان کو منظور کرنے کا اعلان کیا لیکن اپنے صدر کے بیان کی تردید بھی نہ کی۔اس تردیدی بیان میں بھی یونٹوں کے قیام کو تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا تھا ، بلکہ صوبوں کی خود مختاری پر زور دیا گیا تھا۔اور اس بات کو بھی واضح نہیں کیا گیا تھا کہ کانگرس آئین ساز اسمبلی میں اس منصوبے کے بنیادی خدو خال کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرے گی۔اب شکوک و شبہات کے بادل گہرے ہو چکے تھے۔دونوں پارٹیوں میں اور ان کے حامیوں میں خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی تھی۔مفاہمت کا ایک اور موقع ہاتھ سے نکل چکا تھا۔(۱۰۹) مسلم لیگ کے راست قدم کے اعلان کے متعلق جب حضور سے دریافت فرمایا گیا کہ اس کے متعلق احمدیوں کا مسلک کیا ہونا چاہیے تو حضور نے ارشاد فرمایا