سلسلہ احمدیہ — Page 63
63 جلسہ سالانہ کی بجائے ایک ایسا دن مقرر کیا جائے جس میں ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے بانی کی خوبیاں بیان کریں۔(۶،۵) آپ کے اس ارشاد کی تعمیل میں پہلے یومِ سیرت پیشوایان مذاہب کے لیے ۳ دسمبر ۱۹۳۹ء کی تاریخ مقرر کی گئی۔چنانچہ اس سال ہندوستان میں قادیان، دہلی ، ڈھاکہ، سکندرآباد، جبل پور اور سیالکوٹ کے شہروں کے علاوہ بعض دیہات میں بھی یہ جلسے منعقد کیے گئے جہاں جماعت کے مقررین نے آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود کی سیرت پر تقاریر کیں وہاں عیسائی، یہودی، پارسی ہندو اور سکھ مقررین نے حضرت عیسی علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت زرتشت ، حضرت رائم ، حضرت کرشن اور حضرت باوا نانک کی سیرت پر تقاریر کیں۔ان کے علاوہ بہت سے احمدی مقررین نے دوسرے مذاہب کے پیشواؤں کی سیرت پر تقاریر کیں۔مختلف زبان بولنے والے سامعین کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ تقاریر اردو، ہندی، پنجابی اور انگریزی زبان میں کی گئیں۔تقاریر کے علاوہ کچھ محققین نے اپنے مضامین پڑ ہے اور شاعروں نے اپنا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔کچھ مقامات پر جلسوں کی صدارت بھی غیر مسلم حضرات نے کی۔یہ جلسے خاص طور پر پڑھے لکھے طبقے کو متاثر کرنے کا باعث بنے اور انہوں نے جماعت کی اس کاوش کو سراہا۔کئی معززین نے اس بات کا اظہار کیا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا جلسہ دیکھا ہے۔(۷ تا ۱۲) ہندوستان سے باہر نیروبی (مشرقی افریقہ ) میں بھی یہ جلسہ کامیابی سے منعقد ہوا۔اس کا پروگرام پانچ مختلف مذاہب کے نمائیندوں کی طرف سے مشترکہ طور پر شائع کیا گیا تھا۔اس وقت مشرقی افریقہ میں ہندوستان کی طرح مختلف مذاہب کے لوگ کثرت سے آباد تھے۔اس لیے آپس میں رواداری اور بھائی چارہ پیدا کرنے کی اس کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔(۱۳) جماعت کی یہ مساعی صرف جلسوں اور تقاریر تک محدود نہ تھی۔جماعتی تعلیمات اور حضرت مصلح موعود کے ارشادات کی روشنی میں ریویو آف ریلیجنز نے پیشوایان مذاہب نمبر نکالا اور ان کی مقدس زندگیوں اور پاکیزہ تعلیمات پر محققانہ مضامین شائع کیے۔ہندوستان کے اس ماحول میں ب مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان تناؤ کی کیفیت اپنے عروج پر تھی ، جماعت احمدیہ کی یہ کوشش تازہ ہوا کا جھونک تھی۔ملک کی سرکردہ شخصیات بھی اس کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکیں۔چنانچہ ملک کے مشہور سیاسی لیڈر پنڈت جواہر لال نہرو صاحب نے جو بعد میں آزاد بھارت کے پہلے