سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 62 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 62

62 سکھوں میں سے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے گا۔مگر یہ شرط ہوگی کہ دوسرے مذہب پر کسی قسم کا حملہ نہ کرے۔فقط اپنے مذہب اور اپنے مذہب کی تائید میں جو چاہے تہذیب , سے کہے۔(۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ خواہش آپ کی زندگی میں پوری نہ ہو سکی۔لیکن آپ کے اس اعلان کو ملک میں بے یقینی کی نظر سے دیکھا گیا۔اگر چہ اس سے کچھ عرصہ قبل امریکہ کے شہر شکاگو میں مذاہب کی ایک عالمی پارلیمنٹ منعقد ہوئی تھی۔اس کو منعقد کرانے والے بہت سے منتظمین عیسائیت کی تبلیغ کے لئے عالمی سطح پر کوشاں تھے۔چنانچہ لد ہیانہ کے سول اینڈ ملٹری نیوز نے اس پر یہ تبصرہ کیا مرزا غلام احمد قادیانی موضع قادیان میں مثل شکاگو کے ایک مذہبی کا نفرنس منعقد کرنا چاہتے ہیں۔یہودی ، عیسائی۔پارسی۔برہمو جینی۔بدھ۔آریہ۔سناتن دھرمی اور ملحد ہر مذہب وملت کے قائمقاموں کو مدعو کیا گیا ہے۔اور ہر ایک مذہب کے ایک ایک قائمقام کا سفر خرچ مرزا صاحب اپنی جیب سے دینگے۔ایک ماہ تک یہ جلسہ منعقد ر ہیگا اور جملہ قائمقامانِ ملل مختلفہ کے اخراجات خوردونوش کے بھی خود مرزا صاحب متحمل ہوں گے۔جو صاحب کسی مذہب کے ریپریزنٹیو کی حیثیت سے شامل ہونا چاہیں وہ مرزا صاحب کو ماہِ مئی ۱۸۹۶ء کے آخر تک مطلع کریں۔مرزا صاحب کا مقصد اس کا نفرنس کے انعقاد سے یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے اختلافات دور کئے جائیں اور ایک ہی خدا کی پرستش کرنے والے ایک ہی حلقے میں لائے جائیں۔ہماری رائے میں یہ منشا نہ کبھی پورا ہوا ہے اور نہ ہو گا۔البتہ چند روز واسطے اچھی دل لگی ہے۔مگر بجائے اس کے کہ مرزا صاحب موضع قادیان میں کانفرنس قائم کرنا چاہتے ہیں اگر کسی بڑے شہر مثلاً امرتسر لا ہور میں منعقد کرتے اور عام لوگوں کے لئے ٹکٹ لگا دیتے تو کانفرنس ایک بڑے سکیل پر ہوسکتی ہے اور آمدنی بھی معقول ہو۔(۴) حضور کی اس خواہش کے پیشِ نظر ۱۹۳۹ء کی مجلس مشاورت میں یہ تجویز منظور کی گئی کہ اس سال ہونے والے جو بلی کے جلسے کے موقع پر مختلف مذاہب کے مقررین کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے پیشوایان مذہب کی سیرت پر تقاریر کریں۔اس تجویز پر حضرت خلیفتہ اسیح ثانی نے فیصلہ فرمایا کہ