سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 704 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 704

704 سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ کی وفات کے وقت اور بعد میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے ہر فرد نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم جماعت میں تفرقہ پیدا نہیں ہونے دیں گے اور اس کے لئے جو قربانی ہمیں دینی پڑے گی ہم دیں گے۔یہ ہرگز نہ ہو گا کہ ہم اپنے مفاد کی خاطر جماعت کے مفاد کو قربان کر دیں بلکہ بہر صورت ہم جماعت کے مفاد کو مقدم کریں گے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے بڑی کامیابی عطا فرمائی اور جو کام اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد کیا تھا اسے انہوں نے پوری طرح نبھایا۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو ترقی دیں اور اس میں کمزوری نہ آنے دیں۔اس بارے میں کل ایک دوست نے مجھ سے بات کرنا چاہی تو میں نے کہا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے خاندان میں کوئی فرد اپنے مفاد کے لئے جماعت کے مفاد کو قربان نہیں کرسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کا ہر فرد خدا کا ہے مسیح موعود کا ہے جماعت کا ہے۔ہماری طرف سے کوئی کمزوری اور فتنہ نہ ہو گا۔پس اب خدا تعالیٰ نے جو یہ ذمہ واری میرے کندھوں پر ڈالی ہے اور اس کام کے لئے آپ نے مجھے منتخب کیا ہے۔میں بہت کمزور انسان ہوں اس لئے آپ کا فرض ہے کہ آپ دعاؤں سے میری مدد کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے توفیق بخشے کہ میں اس ذمہ واری کو پوری طرح ادا کر سکوں اور خدمت دین اور اشاعت اسلام میں کوئی روک پیدا نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ کام ترقی کرتا چلا جائے حتی کہ اسلام دنیا کے تمام ادیانِ باطلہ پر غالب آجائے۔۔۔۔۔(۶) اس خطاب کے بعد وہاں پر موجود اراکین مجلس انتخاب خلافت نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔اُس وقت ۲۰۲ اراکین وہاں پر موجود تھے ، دیگر ۳۵ اراکین پاکستان سے باہر ہونے کے باعث یا علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہیں تھے۔(۶) یہ کاروائی ساڑھے دس بجے ختم ہوئی تو مسجد مبارک کے دروازے کھولے گئے اور باہر ہزاروں احمدی بیعت کرنے کے لئے بے تاب تھے۔مسجد کھچا کھچ بھر گئی اور وہاں پر موجود جملہ احباب جماعت نے