سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 57 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 57

57 پیش رفت کا تجزیہ کر رہا تھا کہ یہ کیسے ہوا؟۔پولینڈ پر روس کے حملے کی دو ہی ممکنہ وجوہات ہوسکتی تھیں۔کیا یہ حملہ سوویت یونین اور جرمنی کے درمیان کسی خفیہ معاہدے کے نتیجے میں ہو ا تھا۔یا پھر سوویت یونین نے پولینڈ میں افواج اتارنے کا مقصد یہ تھا کہ کہیں جرمنی پورے پولینڈ پر قبضہ کر کے اس کی سالمیت کے لئے خطرہ نہ بن جائے۔کیونکہ اس کی مغربی سرحد پر دفاعی نقطہ نگاہ سے کوئی قدرتی سرحد نہیں تھی اور پولینڈ کے دریاؤں تک اپنی افواج لے جانے کی صورت میں وہ جرمنی کے ممکنہ حملے کی صورت میں بہتر دفاعی پوزیشن میں آ جاتا تھا۔۱۸ اور ۱۹ستمبر کو ڈیلی ٹیلیگراف نے پولینڈ پر سوویت حملے کا تجزیہ کیا اور ان دونوں امکانی وجوہات کا جائزہ شائع کیا۔اس جریدے نے بھی یہی بات زور دے کر لکھی کہ سٹالن کے ذہن میں کیا ہے؟ اور اُس کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ اور آخر میں اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ دنیا ان سوالات پر صرف قیاس آرائی ہی کر سکتی ہے اور آمروں کے نظریاتی کرتبوں نے دنیا کو ایک ذہنی الجھن میں ڈال رکھا ہے۔لیکن ایک معمہ حل ہو جاتا ہے۔اور اس سے روسی حملے کا اصل مقصد ظاہر ہو جاتا ہے۔روس کے آقا اس بات کا تہیہ کئے ہوئے ہیں کہ سارا پولینڈ جرمنی کے تسلط میں نہ جائے۔اور روس کے مفادات کی حفاظت کے لئے وہ اپنے نئے دوستوں ( یعنی جرمنوں ) سے ٹکراؤ کا خطرہ مول لینے کے لئے بھی تیار ہیں۔اس وقت کئی انگریز مد برین اور اخبارات اس خیال اظہار کر رہے تھے کہ غالباً روس پولینڈ میں اس لئے داخل ہوا ہے کہ جرمنی سارے پولینڈ میں اقتدار قائم کر کے روسی مفادات کے لئے خطرہ نہ بن جائے۔اگر چہ اس بات کی مذمت بھی کی جارہی تھی کہ روس نے اپنے مفادات کے لئے ایک آزاد ملک میں اپنی افواج اتاری ہیں۔چرچل جیسے ذہین سیاستدان نے بھی اکتوبر ۱۹۳۹ء میں ریڈیو پر اپنی تقریر میں یہ تجزیہ پیش کیا۔میں روس کے طرز عمل کے متعلق کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتا۔یہ ایک پہیلی کے اندر ملفوف معمہ ہے۔لیکن شاید اس کی ایک چابی ہے اور وہ چابی روس کے مفادات ہیں۔اگر جرمنی بحیرہ اسود کے ساحل تک پہنچ جاتا یا بلقان کی ریاستوں پر قبضہ کر لیتا یا جنوب مشرقی یورپ میں سلا و اقوام کو اپنے قبضے میں لے لیتا تو یہ روس کے مفادات کے خلاف ہوتا۔“ اور اس وقت برطانیہ کے وزیر اعظم چیمبر لین نے بھی اس تجزیئے سے اتفاق کیا تھا۔(۳۴)