سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 56 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 56

56 ڈنمارک بیلجیم، ناروے، یونان، یوگوسلاویا ، تھائی لینڈ اور فلپائن بھی جنگ میں شامل ہو گئے۔ہر راعظم کے فوجی اس جنگ میں شامل ہوئے اور ان میں سے بہت اس جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔اس سے زیادہ خون ریزی دنیا کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی۔مجموعی طور پر کروڑوں آدمی اس جنگ میں ہلاک ہوئے۔اس وقت تو یہ توقع کی جارہی تھی کہ زیادہ سے زیادہ ہندوستان پر ہوائی حملے ہوں گے مگر صورت حال اس وقت یکسر بدل گئی جب جاپان کی افواج کو مشرقی بعید میں کامیابیاں ملنی شروع ہوئیں اور آخر کار اس کی افواج نے رنگون فتح کیا اور جنگ ہندوستان کے دروازے پر آن پہنچی۔ایک ایسا مرحلہ بھی آیا کہ حکومت کو کراچی اور مدراس کے اُن شہریوں کو جو کوئی کام نہیں کرتے تھے اور آسانی سے شہر چھوڑ سکتے تھے ، اپنے شہر چھوڑ کر وقتی طور پر کہیں اور جانے کا مشورہ دینا پڑا۔(۳۳۳۲) سوویت یونین کا پولینڈ پر حملہ اور حضور کا تجزیہ: جنگ سے قبل سوویت یونین اور اتحادیوں کے درمیان ممکنہ اتحاد پر مذاکرات ہوتے رہے لیکن کوئی معین معاہدہ نہ ہو سکا۔سوویت یونین کا کہنا تھا کہ وہ اسی صورت میں جرمنی کے حملے کو روک سکتا ہے جب پولینڈ کی حکومت اسے اپنی افواج پولینڈ میں اتارنے کی اجازت دے۔دوسری طرف پولینڈ اس کے لئے تیار نہیں تھا، مگر نچلی سطح پر روس اور اتحادیوں کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔۔اسی دوران یہ حیران کن تبدیلی آئی کہ ۲۳ اگست ۱۹۳۹ء کوسوویت یونین اور جرمنی نے آپس میں عدم جارحیت کا معاہدہ کر لیا جبکہ اس سے قبل ان کے باہمی تعلقات نہایت خراب تھے۔یکم ستمبر کو جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا اور پولینڈ کی تمام افواج اس کی مغربی سرحد پر اپنے سے کہیں برتر جرمن افواج سے مقابلہ کر رہی تھیں اور اس کی مشرقی سرحد پر کوئی حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے۔اپنے سے برتر جرمن افواج کے سامنے پولینڈ کی افواج مسلسل پسپا ہورہی تھیں۔اس ماحول میں ۷ ستمبر ۱۹۳۹ء کو یہ خبر پوری دنیا میں حیرت سے سنی گئی کہ روس نے پولینڈ کی مشرقی سرحد پر حملہ کر دیا اور اس کے مشرقی حصے پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔اس کے ساتھ ہی پولینڈ کے دفاع میں رہی سہی رمق بھی دم توڑ گئی۔اور پولینڈ ، سوویت یونین اور جرمنی کے درمیان تقسیم ہو گیا۔ہر ذہن اپنے اپنے طور پر اس