سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 634 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 634

634 میں مکرم ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب نے قائم فرمائی تھی۔جلد یہ ڈسپنسری ترقی کرتی ہوئی ایک ہسپتال کی شکل اختیار کر گئی۔کا نوشہر میں اُس وقت مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن وہاں پر ایک بھی مسلمان ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔مکرم ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب نے بھی طویل عرصہ خدمات سرانجام دے کر ۱۱ جولائی ۱۹۸۱ء کو میدانِ عمل میں وفات پائی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ کا نو میں ایک طبقہ کی طرف سے احمدیت کی شدید مخالفت کی گئی تھی۔پہلے ۱۹۵۹ء میں یہ تحریک کی گئی کہ کوئی احمد یوں سے مصافحہ نہ کرے اور نہ میل جول رکھیں۔شہر میں احمدیت کے خلاف لیکچر دیئے گئے۔اور کانو سے زاریہ کے شہر جا کر بھی مخالفین نے لوگوں کو احمدیت کے خلاف بھڑ کا یا۔اور ۱۹۵۹ء میں Anti Ahmadiyya Movement کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا۔اور مخالفین نے اعلان کیا کہ وہ اب ھاؤ سا قبیلے کے احمدیوں کے گھر جا کر انہیں تو بہ کرنے کے لئے کہیں گے۔بعض کو ملازمت سے ہٹانے کی دھمکیاں دی گئیں اور بعض کو تو والدین اور دیگر رشتہ داروں کی طرف سے دھمکیاں ملنی شروع ہو گئیں۔کا نو میں پریس کا انچارج جو مقامی سلطان کا داماد بھی تھا ، احمدیت کی مخالفت کی پیروی کر رہا تھا۔اور جماعت کے خلاف لکھی گئی کتب ہندوستان، پاکستان اور عرب ممالک سے منگوا رہا تھا۔اور خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات کو اعتراضات کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔اس کے جواب میں جماعت بھی اپنی روایات کے مطابق مخالفت کی اس لہر کا جواب دے رہی تھی۔پبلک میٹینگز میں ان مخالفانہ اعتراضات کے جوابات دیئے جارہے تھے، اخبارات میں مضامین لکھے جا رہے تھے۔اور مخالفین کے اعتراضات کے جوابات پر اور ثابت قدم رہنے کی تلقین پر مشتمل اشتہارات احمدیوں میں تقسیم کئے جارہے تھے۔اور نو مبائعین اور پرانے احمدیوں کو خطبات اور تقاریر میں ثابت قدم رہنے کی تلقین کی جا رہی تھی۔اس مخالفانہ لہر کے با وجود کا نو میں احمدیت رفتہ رفتہ ترقی کر رہی تھی۔(۲۲،۲۱،۲۰،۱۹) اب تک مشرقی نائیجیریا میں جماعت قائم نہیں ہوئی تھی ، یہاں پر عیسائیت کا زور تھا۔۱۹۶۳ء میں مرکز کی ہدایت کے مطابق یہاں پر بھی جماعت نے اپنی تبلیغی مساعی کا آغاز کیا۔(۲۳) مکرم مولانا نسیم سیفی صاحب ۱۹ سال سے نائیجیریا میں فریضہ تبلیغ ادا کر رہے تھے۔جولائی ۱۹۶۴ء میں آپ واپس پاکستان آگئے اور آپ کی جگہ مکرم شیخ نصیرالدین صاحب نے امیر کے