سلسلہ احمدیہ — Page 621
621 شاگردوں کو یہ خواب سنائی ہی تھی کہ پولیس نے مشن ہاؤس کو گھیرے میں لے لیا۔اور مشن ہاؤس کی تلاشی لی گئی۔الزام یہ عائد کیا گیا تھا کہ جماعت احمدیہ کے مبلغ کی جرمنی کے ساتھ خط و کتابت ہے اور یہاں پر گولہ بارود موجود ہے۔جب کچھ نہ ملا تو شرمندہ ہو کر واپس چلے گئے۔بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سپرنٹنڈنٹ اور ڈسٹرکٹ کمشنر کا کام تھا۔ڈسٹرکٹ کمشنر پہلے معطل ہوا اور پھر بحال ہوا تو مہلک ملیریا کا شکار ہو کر اس دنیا سے کوچ کر گیا۔اور سپرنٹنڈنٹ پر بھی کئی مصائب آئے۔اس پر لوگوں نے اور اس کی بیوی نے اسے یہ کہا کہ جب سے تم احمد یہ مشن کی تلاشی کے لئے گئے ہو اُس وقت سے تم پر یہ مصائب آ رہے ہیں۔بعد میں اس سپر نٹنڈنٹ نے اپنا رویہ تبدیل کیا اور احمدیوں سے دوستانہ تعلق قائم کر لئے۔(۱) اب گولڈ کوسٹ کے شمال میں وا (Wa) کے مقام پر جماعت کی مخالفت زور پکڑ رہی تھی۔یہاں پر معلم صالح مولوی نذیر احمد صاحب علی کے ذریعہ احمدی ہوئے تھے۔جب گاؤں والوں کو ان کے احمدی ہونے کا علم ہوا تو انہوں نے ان کے قتل کے لئے مشورے کئے۔ایک دن ایک جم غفیر نے ان کے مکان پر حملہ کر دیا۔وہ قرآن کریم پڑھ رہے تھے۔ایک شخص نے تلوار سے اُن پر حملہ کیا۔وہ تو بچ گئے مگر قرآنِ کریم دو ٹکڑے ہو گیا۔اُس وقت گورنمنٹ افسران نے انہیں ہدایت دی کہ وہ کچھ دنوں کے لئے سالٹ پانڈ چلے جائیں۔اس وقت مولانا فضل الرحمن صاحب حکیم گولڈ کوسٹ اور نائیجیر یا دونوں کے انچارج تھے۔انہوں نے لیگوس ( نائیجیریا) سے افسران سے خط و کتابت کی تو معلم صالح کو واپس جانے کی اجازت ملی۔یہ واقعات تو ۱۹۳۶ء سے پہلے کے ہیں۔اس کے بعد اس علاقے میں احمدیت نے پھیلنا شروع کیا اور وا میں ایک خاطر خواہ جماعت قائم ہونے کے علاوہ دو اور جگہوں پر بھی جماعت قائم ہو گئی۔اس ترقی کو دیکھ کر مخالفت نے ایک مرتبہ پھر زور پکڑا اور ایک بار پھر معلم صالح صاحب پر حملہ کیا گیا۔جماعت نے اس پر احتجاجی تار دیئے۔۱۹۴۱ء کے شروع میں سالٹ پانڈ کے اسٹنٹ ڈپٹی کمشنر نے مولانا نذیر بشر صاحب کو بلا کر کہا کہ یہاں کے گورنر نے فیصلہ کیا ہے کہ شمالی علاقہ کے تمام احمدیوں کو وہاں سے نکال دیا جائے۔اس نا معقول حکم کو سن کر مولانا نذیر مبشر صاحب نے کہا کہ یہ انصاف سے بعید ہے میں حکومت کے حکم کو بدل تو نہیں سکتا مگر اس پر احتجاج ضرور کروں گا۔مگر شمالی علاقوں کے افسران نے