سلسلہ احمدیہ — Page 597
597 احمدیوں کے لئے ایک سہارا تھا۔اور حضور کی بیماری میں آپ کے فرائض میں پہلے سے بھی بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔آپ نگران بورڈ کے صدر بھی تھے اور نگران بورڈ کے فیصلوں کے واجب العمل ہونے کے لئے ضروری تھا کہ آپ کی رائے اس فیصلے کے حق میں ہو۔اور جب بیماری کی وجہ سے حضور کے لئے مجلس مشاورت کی صدارت کرنا ممکن نہ رہا تو حضور کے حکم کے تحت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اس ذمہ داری کو ادا فرماتے رہے۔خواہ جماعت میں کوئی تربیتی مسئلہ ہو یا بیرونی مخالفین کی ریشہ وانیوں کا سدِ باب کرنا ہو ، آپ با وجود کمزوری صحت کے مستعدی سے ان فرائض کو ادا فرماتے۔۱۹۶۳ء میں آپ نے محسوس فرمایا کہ پاکستان کی جماعت میں بے پردگی کا رحجان بڑھ رہا ہے۔تو آپ نے الفضل میں ایک اعلان شائع فرمایا کہ غیر از جماعت لوگوں کی نقل میں بعض کمزور طبیعتوں میں بے پردگی کا رحجان پیدا ہو رہا ہے، اس لئے جماعت کو چاہئیے کہ وہ اس غیر اسلامی رحجان سے بچ کر رہیں اور اسلامی تعلیمات کا نمونہ دکھا ئیں۔اور یہ تاکید فرمائی کہ نہ صرف مقامی جماعتوں کو اس رحجان کا سدِ باب کرنا چاہئیے بلکہ مرکز کو بھی اس بارے میں مطلع کرنا چاہئیے۔اور اگر امراء اس ضمن میں رپورٹ نہیں کریں گے تو وہ بھی مجرم سمجھے جائیں گے۔(۳) گذشتہ چند سالوں کی طرح حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۶۳ء کی مجلس مشاورت کی صدارت کے لئے آپ کو مقر فرمایا۔آپ نے کرسی صدارت پر رونق افروز ہو کر فرمایا کہ حضرت خلیفہ اسیح کی یہ ذرہ نوازی ہے کہ مجھے اس کام کے لئے پھر منتخب فرمایا ہے۔گویہ سال میرا کافی بیماری اور کمزوری کی حالت میں گزرا ہے میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ میں اس کے منشاء کے مطابق ان فرائض کو سرانجام دے سکوں جو اسلام کے لئے مفید اور بابرکت ہوں۔“ اس کے بعد آپ نے دعاؤں کی طرف توجہ دلائی اور اجتماعی دعا کے بعد کا روائی کا آغاز ہوا۔آپ نے پہلے اجلاس میں کمیٹیوں کے انتخاب سے پہلے اپنا ایک مکتوب پڑھ کر سنایا جو امراء جماعت کو بھیجا گیا تھا۔اس میں آپ نے تحریر فرمایا تھا کہ مختلف ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ اب پھر جماعت احمدیہ کے خلاف مخالفت کا سیلاب تیزی سے اُٹھ رہا ہے اور ختم نبوت کے عقیدہ کی آڑ لے کر اور دیگر اعتراضات اٹھا کر جماعت کے خلاف عوام کو اور حکومت کو اکسایا جا رہا ہے اور سازش یہ معلوم ہوتی