سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 596 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 596

596 طبیعت خدمت دین اور دینی علوم کے حصول کی طرف اتنی مائل تھی کہ جب آپ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے تو جلد ہی آپ کی قابلیت کی وجہ سے سب آپ کا احترام کرنے لگ گئے۔مگر آپ نے کالج کو اس لئے الوداع کہہ دیا کہ قادیان میں حضرت خلیفتہ اسی لاول کی خدمت میں حاضر ہو کر قرآن کریم کے درس میں شامل ہو سکیں۔حضرت خلیفہ مسیح الاول پہلے دن میں دو مرتبہ قرآنِ کریم کا درس دیتے تھے لیکن اب آپ نے دن میں تین مرتبہ درس دینا شروع فرما دیا۔خلافت ثانیہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب روز و شب خدمت دین پر کمر بستہ ہو گئے۔صدر انجمن احمدیہ کی مختلف نظارتوں کے فرائض ہوں، یا صدر انجمن احمد یہ کے قوانین کی تدوین ہو، ہجرت کا پُر آشوب دور ہو یا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی علالت کے نازک دور میں نگران بورڈ کی صدارت، آپ ہر موقع پر اپنے عظیم بھائی کے دست و بازو بن کر خدمت دین پر کمر بستہ نظر آتے ہیں۔آپ کی خدمات صرف انتظامی میدان تک محدود نہیں تھیں۔آپ ایک بلند پایہ محقق اور مصنف بھی تھے۔آپ کی تحریر میں ہر بات دلیل اور حوالہ کے ساتھ لکھی ہوتی تھی۔مخالفین کے اعتراضات کا جواب اس جامع اور مدلل طریق پر دیتے کہ کوئی بھی پہلو اس گرفت سے باہر نہ رہتا۔آپ نے ۳۲ تصانیف تحریر فرمائیں۔جس وقت آپ نے سیرت خاتم النبین تحریرفرمائی ، اس دور میں مستشرقین کی طرف سے آنحضرت میے کی مبارک زندگی پر بہت سی کتب شائع کی جارہی تھیں۔ان میں سے اکثر تعصب سے آلودہ تھیں اور آپ پر طرح طرح کے اعتراضات کئے جا رہے تھے۔آپ نے تمام تاریخی حقائق کو اس خوبصورتی سے پیش کیا کہ ، وہ تمام اعتراضات دھواں ہو کر اڑنے لگے۔اسی طرح جب آپ نے محسوس فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کے صحابہ ایک ایک کر کے اس عالم فانی سے رخصت ہو رہے ہیں تو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روایات جمع فرمائیں اور یہ روایات سیرت المہدی کے نام سے کئی جلدوں میں شائع ہوئیں۔یہ کتاب آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی خزانہ ہے۔تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ احباب جماعت سے ذاتی تعلقات رکھتے اور ان کی تربیت کے لئے اور ان کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے کوشاں رہتے۔باوجود تمام علم اور خدمت دین کے اور با وجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک موعود بیٹا ہونے کے آپ انکسار اور خلیفہ وقت کی اطاعت کا ایک نمونہ تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بیماری کے ایام میں آپ کا مبارک وجود