سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 50 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 50

50 50 صوبوں میں کانگرس کی حکومت ہے وہاں کے مسلمانوں کو اُن کے حقوق دلائے (۱۲)۔پنجاب اور بنگال کے مسلمان وزراء اعظم اور ان کی حکومتیں جنگی تیاریوں میں حکومت سے تعاون کر رہی تھیں۔مسلمانوں کے کچھ چھوٹے گروہ مثلاً خاکسار تحریک بھی حکومت سے تعاون کرنے پر آمادہ تھی اور اس کے لیڈر علامہ مشرقی نے اپنے سب اراکین کو فوج میں شامل کرنے کی پیشکش کی تھی۔(۱۳ تا ۱۶) بہت سے سجادہ نشین بھی انگریز حکومت سے وفاداری کا اعلان کر رہے تھے۔مثلاً پیر صاحب مکھڈ نے برطانیہ کے بادشاہ کے نام یہ پیغام بھجوایا دمیں اور میرے دربار کے تمام مرید اپنی حقیر خدمات اعلیٰ حضرت ملک معظم کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ہم اپنے آپ کو جناب والا کے سپرد کرتے ہیں میں حضور کو یقین دلاتا ہوں۔کہ دربار اور اس کے مرید ہزامپریل مجسٹی شہنشاہ معظم اور ان کی حکومت کے ساتھ وفاداری کی روایت کو جاری رکھیں گے۔(۱۷) دوسری ریاستوں کی طرح ہندوستان کی مسلمان ریاستیں بھی انگریز حکومت کی حمایت کا اعلان کر رہی تھیں۔نواب بھوپال نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ تمام ممالک اسلامیہ نے برطانیہ کو امداد دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔لہذا ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی ممالک اسلامیہ کی تقلید میں برطانیہ کی امداد کرنی چاہئیے۔ممکن ہے کہ مسلمانوں کو برطانیہ سے بعض شکایات بھی ہوں۔لہذا موجودہ نازک وقت میں ان شکایات کو بالکل بھول جانا چاہئے۔اور برطانیہ کی فراخدالی سے امداد دینی چاہیے۔(۱۸)۔قبائلی علاقہ میں بھی فوج میں بھرتی کے متعلق ملے جلے خیالات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔مہمند قبیلہ نے پہلے جنگ کے آغاز میں اعلان کیا کہ وہ برطانیہ کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور قبائلی اس جنگ میں برطانیہ کی کوئی مدد نہیں کریں گے بلکہ برطانیہ کو فوجی مدد کی روک تھام کے لئے ایک خفیہ تنظیم قائم کی جائے گی۔لیکن پھر کچھ ہی عرصہ میں انہوں نے رنگ بدلا اور نہ صرف سلطنت برطانیہ سے وفاداری کا اعلان کیا اور جب گورنر نے اُن کے علاقے کا دورہ کیا تو اُن کا پُر جوش خیر مقدم کیا گیا۔(۲۰،۱۹) اسی طرح مسعودی قبیلہ نے نہ صرف انگریز حکومت سے وفاداری کا اعلان کیا بلکہ جنگ میں انگریزوں کی مدد کرنے کے لئے فراخدلی سے ۲۱ ہزار روپے کا چندہ بھی جمع کیا گیا۔(۲۱) یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسی سال مسلم لیگ کو ایک سال میں پورے ہندوستان کے