سلسلہ احمدیہ — Page 49
49 مسلمان احرار کی حالت پر کڑھتا ہے۔لیکن ہندو ہنستا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اس کی چال دونوں طرح کارگر ہے۔اگر احرار میدان میں ہوں تو مسلمانوں کے خلاف ان کی پیٹھ ٹھونکی جائے۔اگر وہ جیل میں ہوں تو انہیں مطلب براری کا طعنہ دیا جائے کہ یہ سب کچھ الیکشن کے لئے ہو رہا ہے اور اسی طرح اگر عام مسلمانوں میں افتراق پیدا ہوتو بھی ان کے لئے مفید اور اگر احرار پر مصیبت نازل ہو تو بھی ان کے لئے وجہ مسرت کہ مسلمانوں کے ساتھ یہی کچھ ہونا چاہئیے۔کاش بزرگانِ احرار آج بھی سوچیں اور سمجھیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی صحیح سیاسی ضروریات کیا ہیں اور وہ ہندوؤں کے چکر میں آکر جیل خانے یا مصیبتیں برداشت کرنے کی جگہ مسلمانوں کے شانہ بشانہ کام کریں! (۱۱) گاندھی جی ایک اور نظریہ پیش کر رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو اس جنگ میں عدم تشدد کا راستہ اپنانا چاہئیے۔ہٹلر اور مسولینی اگر برطانیہ پر قبضہ کرتے ہیں تو وہ ان کا مقابلہ نہ کریں اور انہیں قبضہ کرنے دیں اور انہوں نے وائسرائے لارڈ پینلیتھگو سے ملاقات کر کے انہیں مشورہ دیا کہ برطانیہ کو چاہیے کہ ہتھیار رکھ دے اور روحانی طاقت سے ہٹلر کا مقابلہ کرے۔بہت سے کانگریسی لیڈر بھی ان نظریات سے متفق نہیں تھے۔بعد میں گاندھی جی نے انگریز حکومت کے خلاف تحریک چلا دی۔ان کا مطالبہ تھا کہ انگریز حکومت کو چاہیے کہ فوراً ہندوستان چھوڑ کر چلے جائیں۔اگر وہ ہندوستان چھوڑ دیں گے تو پھر جاپانی ہندوستان پر حملہ نہیں کریں گے اور یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔مسلم لیگ نے گو وار (War) کمیٹیوں میں شمولیت نہیں کی مگر جنگ کے لئے تیاریوں میں حکومت کی راہ میں کوئی رکاوٹ بھی پیدا نہیں کی۔اور نہ ہی اس مطالبے سے اتفاق کیا کہ فوری طور پر دورانِ جنگ ہی ہندوستان کو آزاد کر دینا چاہئیے۔وہ اب مسلمان اکثریتی علاقوں کے لئے ایک آزاد ملک کا مطالبہ کر رہے تھے۔اور آزادی سے قبل اس بات کا تصفیہ چاہتے تھے۔مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے ایک ریزولیشن کے ذریعہ مذاکرات کی دعوت دینے پر وائسرائے کا شکریہ ادا کیا۔اور پولینڈ ،روس اور برطانیہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ اگر حکومت مسلمانوں کی مکمل حمایت سے مستفید ہونا چاہتی ہے تو اسے چاہئیے کہ مسلمانوں کے مطالبات منظور کرے اور جن