سلسلہ احمدیہ — Page 585
585 حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں عرض کی 'بڑے بھائی اب ہم چار رہ گئے ہیں۔یہ جلسہ سالانہ کا پہلا دن تھا۔جلسہ سالانہ کے افتتاح کا وقت قریب آ رہا تھا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے بیماری کی وجہ سے اس تقریب میں شرکت نہیں کرنی تھی۔پونے دس بجے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت مصلح موعودؓ کی تحریر فرمودہ تقریر پڑھنے کے لئے جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو پہلا جملہ آپ نے فرمایا کہ آج ہم تین بھائیوں میں سے دورہ گئے ہیں۔یہ جملہ سنتے ہی جلسہ گاہ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک سناٹا چھا گیا۔پھر آپ نے حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی وفات کا اعلان کیا۔جلسہ گاہ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک رنج والم کی لہر دوڑ گئی۔شدت غم سے لوگوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبشر اولاد میں سے یہ پہلی وفات تھی۔لوگوں کو یہ المناک خبر اتنی اچانک ملی تھی کہ بعض لوگ اچانک صدمے کی وجہ سے کھڑے ہو گئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے نہایت جلال سے فرمایا ' آپ لوگ بیٹھ جائیں۔یہ ایک ایسا قافلہ ہے،اس کو میری یا آپ کی وفات نہیں روک سکتی (۸)۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے احباب کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا یہ وفات ایک خدائی امتحان ہے اور ایسے امتحان ہمیشہ خدائی جماعتوں پر آیا کرتے ہیں۔اور خدائی جماعتوں پر جب نقص من الاموال والانفس کی گھڑیاں آتی ہیں تو وہ ہمت اور استقلال سے کام لیتی ہیں۔پہلے بھی خوف آئے جو خدا نے فضل سے بدل دیے اور اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے پاؤں میں ذرا بھی لغزش نہ آئے اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں۔(۹) جلسہ سالانہ کے پہلے دن کے دوسرے اجلاس کے اختتام پر جنازہ بہشتی مقبرہ کے وسیع میدان میں لایا گیا۔جہاں ہزاروں کی تعداد میں احباب جماعت جمع ہو چکے تھے۔احباب نے قطاروں میں کھڑے ہو کر حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے چہرے کی زیارت کی۔اور اس کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبشر اولاد اور آپ کے صحابہ کا وجود بہت سی برکات کا باعث تھا۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی وفات نئی نسل کے لئے ایک الارم کی حیثیت رکھتی تھی کہ اب