سلسلہ احمدیہ — Page 584
584 بعد بھی کئی ایسے مواقع پیدا ہوئے کہ آپ کی زندگی کو خطرہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے موافق آپ کو خلاف توقع عمر دیتا رہا۔وفات سے بیس بائیس برس قبل ہی آپ کی صحت بہت کمزور رہنے لگی تھی۔جوڑوں کی تکلیف کی وجہ سے آپ کی بیماری کی شدت تیزی سے بڑھتی جا رہی تھی کی ، جس کی وجہ سے بیماری کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تھا۔آزادی کے بعد آپ کو تھر امبوسس کا حملہ ہوا اور آپ کے پیروں پر ورم رہنے لگ گئی تھی۔چند ماہ سے آپ کے عوارض خطرناک صورتِ حال اختیا کر رہے تھے۔کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ چلتے چلتے چکرا کر گر گئے اور چوٹ بھی لگی۔اور کئی مرتبہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بیماری آپ کی مبارک زندگی کا سلسلہ منقطع کر دے گی مگر اللہ تعالیٰ کے وعدے کے موافق آپ کو خلاف توقع عمر ملتی رہی۔اور آپ نے ایک بلند حوصلہ کے ساتھ معمولات زندگی کو جاری رکھا۔جلسہ سے کچھ دن قبل آپ گر گئے اور بازو پر چوٹ آئی۔ایکس رے پر معلوم ہوا کہ بازو کی دونوں ہڈیاں فریکچر ہیں۔مگر آپ نے کام جاری رکھا۔جماعتی روایت ہے کہ جلسہ سالانہ سے ایک روز قبل افسر جلسہ سالانہ اور ناظر اصلاح وارشاد جلسہ گاہ کا ایک آخری معائنہ ایک ساتھ کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے افسر جلسہ سالانہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے ساتھ اکٹھے جلسہ گاہ کا معائنہ فرمایا۔رات کو طبیعت خراب تھی کھانا کھا کر سوئے۔صبح جلسہ کا پہلا روز تھا ، آپ کی بڑی صاحبزادی نے آپ کو چائے دی لیکن جلد آپ کو غنودگی شروع ہوگئی اور آپ کا سانس اکھڑنے لگا۔فوراً ڈاکٹر مرزا منوراحمد صاحب آئے تو آپ پر نزع کا عالم تھا۔مصنوعی سانس دلانے کی آخری کوششیں کی گئیں مگر اللہ تعالیٰ کی تقدیر ظاہر ہو چکی تھی (۷)۔۲۶ دسمبر ۱۹۶۱ء کی صبح کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔جب آپ کی اچانک وفات کی خبر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو دی گئی تو آپ نے انا لِلهِ و إنا اليه راجعون پڑھا اور فرمایا دعا کریں، دعاؤں کی بہت ضرورت ہے۔جب ایک مالا ٹوٹ جاتی ہے تو باقی موتی بھی اس میں سے باری باری گر جاتے ہیں۔لہذا حضرت صاحب کی صحت کے لئے بہت دعائیں کریں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی طبیعت خراب تھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ حضور کو اطلاع دینے کے لئے گئے۔اور