سلسلہ احمدیہ — Page 586
586 یہ بزرگ وجود ایک ایک کر کے رخصت ہو رہے ہیں اور اب خدائی سلسلہ کی ذمہ داریاں اُن کے کندھوں پر منتقل ہو رہی ہیں۔اپنی وفات سے تین سال قبل حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنی تقریر میں احباب جماعت کو ان الفاظ میں اُن کے فرائض کی طرف توجہ ولائی۔روحانی تغیر اور ایمان کے اعلیٰ مدارج تک پہنچنے کے لئے صرف کتابیں اور لٹریچر اور تقاریر کافی نہیں، بلکہ وہ مقام جو کسی مامور من اللہ یا کسی برگزیدہ خدا کے فیض نظر سے ایک لمحہ میں کسی شخص کو حاصل ہوسکتا ہے۔ناممکن ہے کہ وہ سینکڑوں سالوں میں بھی ہزاروں علمی کتابوں کے پڑھنے اور سننے سے حاصل ہو سکے۔امام اور مرکز سے دلی لگاؤ دراصل ایمان کو ترقی دینے کے دو بڑے اہم اسباب ہیں۔اور ہماری جماعت کے دوستوں کو ان دونوں کی اہمیت یقیناً پہلے سے بڑھ کر محسوس کرنی چاہئیے۔آجکل مادیت کی لہریں پھر زور سے سر اُٹھا رہی ہیں اور دنیا داری کے خیالات خصوصاً نوجوان نسلوں کے اذہان میں پرورش پانا شروع ہو گئے ہیں، ان دونوں کا مؤثر علاج یہ ہے کہ امام جماعت ، نظامِ جماعت اور مقام جماعت یعنی مرکز سے گہری وابستگی اور دلبستگی پیدا کی جائے۔اور ان کے دلوں میں ایک خاص محبت کا جوش لہریں مارنا شروع کر دے۔(۷) (۱) تذکرہ ص ۶۰۹ ایڈیشن چهارم ۲۰۰۴، مطبع ضیاء الاسلام پریس ربوه (۲) تذکره ص۵۸۴، ۴۰۵ ایڈیشن چهارم ۲۰۰۴ء مطبع ضیاء الاسلام پریس ربوہ (۳) سیرت حضرت مرزا شریف احمد صاحب ، ص ۶۳ تا ۶۵ (۴) الفضل ۲۱ جنوری ۱۹۶۲ء ص۳ ( ۵ ) الفضل ۱۷ مارچ ۱۹۶۲ء ص۳ (۶) روحانی خزائن ، جلد ۲۲ ص ۸۷، ۸۸ (۷) روایت صاحبزادی امتہ الباری صاحبہ بنت حضرت مرزا شریف احمد صاحب (۸) انٹر ویو مکرم محمود احمد خان صاحب، جو MTA پر یکم ستمبر ۲۰۰۶ کو نشر ہوا (۹) الفضل ۲۸ دسمبر ۱۹۶۱ء ص ۱